اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 18
ہمیشہ خلفائے وقت کی طرف سے کمزوریوں کی نشاندہی کر کے جماعت کو توجہ دلائی جاتی رہتی ہے تا کہ اس سے پہلے کہ کوئی احمدی اتنا دور نکل جائے کہ واپسی کا راستہ ملنا مشکل ہو، استغفار کرتے ہوئے اپنی عملی کمزوریوں پر نظر رکھے اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو یادکرے جو اللہ تعالیٰ نے اُس پر کیا ہے۔مشرق بعید کے میرے حالیہ دورے کے دوران مجھے انڈونیشیا کے کچھ غیر از جماعت سکالرز اور علماء سے بھی ملنے کا موقع ملا۔سنگا پور میں جو reception ہوئی تھی اُس میں آئے ہوئے تھے اور جیسا کہ میں اپنے دورے کے حالات میں بیان کر چکا ہوں کہ اکثر نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہمارے علماء کو جماعت احمدیہ کے امام کی باتیں سننی چاہئیں۔تو بہر حال اُن کے ایک سوال کے جواب میں میں نے انہیں یہی کہا تھا کہ آج رُوئے زمین پر جماعت احمد یہ ایک واحد جماعت ہے جوملکی یا علاقائی نہیں بلکہ تمام دنیا میں ایک جماعت کے نام سے جانی جاتی ہے۔جس کی ایک اکائی ہے، جس میں ایک نظام چلتا ہے اور ایک امام سے منسلک ہے اور دنیا کی ہر قوم اور ہر نسل کا فرد اس میں شامل ہے۔پس یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان اور پیشگوئی کی ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ مسلم اُمتہ میں ایک جماعت ہوگی۔آپ نے فرمایا تھا ایک جماعت ہوگی جو صحیح رستے پر ہوگی۔(سنن الترمذی کتاب الایمان باب ما جاء فى افتراق هذه الامة حدیث نمبر 2641) اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی صداقت کی دلیل ہے۔جو عقل مند اور سعید فطرت مخالفین بھی ہیں اس بات کو سن کر خاموش ہو جاتے ہیں اور سوچتے ہیں۔لیکن اس دلیل کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی عملی حالتوں کی طرف ہر وقت نظر رکھنی ہوگی کیونکہ اس زمانے میں شیطان پہلے سے زیادہ منہ زور ہوا ہوا ہے۔آجکل جو عملی خطرہ ہے وہ معاشرے کی برائیوں کی بے لگامی اور پھیلاؤ ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ آزادی اظہار اور تقریر کے نام پر بعض برائیوں کو قانونی تحفظ دیا جاتا ہے۔اس زمانے سے پہلے برائیاں محدود تھیں۔یعنی محلے کی برائی محلے میں یا شہر کی برائی شہر میں یا ملک کی برائی ملک میں ہی تھی۔۱۸