المبشرات — Page 45
۴۵ دعا کرنے کے وقت خداوند تعالٰی اس حالت غوطہ اور ربودگی کو اپنے بندہ پر وارد کر کے اس کی ہر یک دعا کا اس کو ایک لطیف اور لذیذ کلام میں جواب دیتا ہے اور ہر ایک استفسار کی حالت میں وہ حقائق اس پر کھولتا ہے جن کا گھلنا انسان کی طاقت سے باہر ہے تو یہ امر اس کے لئے موجب مزید معرفت اور باعث عرفان کامل ہو جاتا ہے بندہ کا دُعا کرنا اور خدا کا اپنی الوہیت کی تجلی سے ہر یک دعا کا جواب دینا یہ ایک ایسا امر ہے کہگو یا اسی عالم میں بندہ اپنے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور دونوں عالم اس کے لئے بلا تفاوت یکساں ہو جاتے ہیں جب بندہ اپنی کسی حاجت کے وقت بار بار اپنے مولیٰ کریم سے جواب پاتا ہے اسی طرح کہ جیسے ایک انسان دوسرے انسان کی بات کا جواب دیتا ہے اور جواب ایسا ہوتا ہے کہ نہایت فصیح اور لطیف الفاظ میں بلکہ کبھی ایسی زبان میں ہوتا ہے کہ جس سے وہ بندہ نا آشنا محض ہے اور کبھی امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے کہ جو مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہیں اور کبھی اس کے ذریعہ سے مواہب عظیمہ کی بشارت ملتی ہے اور منازل عالیہ کی خوشخبری سنائی جاتی ہے اور قرب حضرت باری کی مبارک بادی دی جاتی ہے اور کبھی دنیوی برکتوں کے بارے میں پیشینگوئی ہوتی ہے تو ان کلمات لطیفہ و بلیغہ کے سننے سے کہ جو مخلوق کی قوتوں سے نہایت بلند اور اعلیٰ ہوتے ہیں جس قدر ذوق اور معرفت حاصل ہوتی ہے اس کو وہی بندہ جانتا ہے جس کو یہ نعمت عطا ہوتی ہے فی الحقیقت وہ خدا کو ایسا ہی شناخت کر لیتا ہے جیسے کوئی شخص تم میں سے اپنے بچے اور پرانے دوست کو شناخت کرتا ہے اور یہ الہام اکثر معظمات