المبشرات — Page 44
امام کہنا چاہیئے بلکہ یہ خدا کا کلام ہے کے سوم بلا واسطہ وحی کا تیسرا مرکز آنکھ ہے۔کاغذیا پتھر وغیرہ پر کوئی تحریر مشہور ہو جاتی ہے جسے آنکھ دیکھ لیتی ہے ہے وو چہارم براوہ موادی بہی کا حقیقی مرکز دل ہے اس لئے دل پر نازل ہونے والی وحی کی تجلیات بھی کامل درجہ کی ہوتی ہیں چنانچہ حضرت مسیح موعود قلبی وحی کو الہام کامل" کے نام سے تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔صورت دوم الہام کی جس کا میں باعث بار کثرت عجائبات کے کامل ابہام نام رکھتا ہوں یہ ہے کہ جب خدائے تعالے بندہ کو کسی امر غیبی پر بعد دعا اس بندہ کے یا خود بخود مطلع کرنا چاہتا ہے تو ایک دفعہ ایک بیوشی اور ربودگی اس پر طاری کر دیتا ہے جس سے وہ بالکل اپنی ہستی سے کھویا جاتا ہے اور ایسا اس بے خودی اور ربودگی اور بیہوشی میں ڈوبتا ہے جیسے کوئی پانی میں غوطہ مارتا ہے اور نیچے پانی کے پھیلا جاتا ہے غرض جب بندہ اس حالت رو بودگی سے کہ جو غوطہ سے بہت ہی مشابہ ہے باہر آتا ہے تو اپنے اندر میں کچھ ایسا مشاہدہ کرتا ہے جیسے ایک گونج پڑی ہوئی ہوتی ہے اور جب وہ گونج کچھ فرد ہوتی ہے تو نا گہاں اس کو اپنے اندر سے ایک موزون اور لطیف اور لذید کلام محسوس ہو جاتی ہے اور یہ غوطہ ربودگی کا ایک نہایت عجیب امر ہے جس کے عجائبات بیان کرنے کے لئے الفاظ کفایت نہیں کرتے۔یہی حالت ہے جیس سے ایک دریا معرفت کا انسان پر کھل بھاتا ہے۔کیونکہ جب بار بار چشمه معرفت طبع اول مت حاشیه ے براہین احمدیہ حصہ سوم طبع اول ۲۲۵