المبشرات — Page 59
۵۹ مگر ایک بات ایسی ہے جو اس بحث کے سلسلوسی۔یاد رکھنی چاہیئے اور جو بہائیوں کے پھیلا کے ہوئے زہر کے ازالہ میں بہت کام آسکتی ہے اور وہ یہ کہ مامورین کے تجربہ میں یہ بات آئی ہے کہ یہ وحی دوسری وجیوں کے ساتھ مل کر آتی ہے اکیلی نہیں آتی اگر اکیلی آجائے تو ہر آدمی کہہ سکتا ہے کہ مجھے بھی وحی ہوتی ہے اور پھر یہ امتیاز کرنا مشکل ہو جائے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ سے کام لے رہا ہے اس نقص کے ازالہ کے لئے اللہ تعالٰی نے یہ صورت رکھی ہے کہ وہ پہلے اپنے بندہ پر اور قسموں کی وحی نازل کرتا ہے اور جب اس میں بیان کر وہ واقعات کے پورا ہونے سے لوگوں کو یہ یقین آجاتا ہے کہ فلاش شخص سچ بول رہا ہے تو اس کے بعد اس پر وحی قلبی فضی بھی نازل کر دیتا یہ نہیں ہوتا کہ اسے اپنی سچائی کا اور تو کوئی نشان نہ دیا جائے اور صرف قلبی خفی و جی اس کی طرف نازل کرنی شروع کردی جائے اور یہ فظی وحی کے مقابلہ پر کمیت میں بہت ہی کم ہوتی ہے ؟ " جس شخص پر اللہ تع در جی قلیمی خفی نازل کرتا ہے اسے دوسرے : خوا پر بھی عطا کرتا ہے تاکہ لوگوں کو کوئی دھوکا نہ لگے اور وہ سمجھ لیں کہ جو۔شخص پہلی وحی کے بیان کرنے میں راستبازی سے کام لے رہا ہے وہ اس وحی میں بھی ضرور صادق اور راستباز ہے لیکن اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ نہ اس پر کثرت سے وحی لفظی نازل ہوتی ہے نہ اس پر وحی جبر یلی نازل ہوتی ہے نہ اس پر تصویری یا تیری زبان میں وحی نازل ہوتی ہے اور وہ ہے تو اس کا یہ دعوی کسی عقلمند کی نگاہ میں قابل قبول نہیں ہو سکتا پر شخص کہے گا کہ وہ پاگل ہے جو اپنے دل کے خیالات کا نام وحی رکھ رہا ہے وجی قلبی خفی ہوتی