المبشرات — Page 58
۵۸ کلام دل میں داخل ہوتے ہی اپنی کیر زور روشنی ظاہر کر دیتا ہے اور انسان متنبہ ہو جاتا ہے کہ خدا کی طرف سے یہ الفاء ہے اور صاحب ذوق کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے متنفسی ہوا اندر جاتی اور تمام دل وغیرہ اعضا کو راحت پہنچاتی ہے ویسا ہی وہ الہام دل کو تسلی اور سکینت اور آرام بخشتا ہے اور طبیعت مضطرب پر اس کی خوشی اور خنکی ظاہر ہوتی ہے یہ ایک باریک ابھید ہے جو عوام لوگوں سے پوشیدہ ہے مگر عارف اور صاحب معرفت لوگ جن کو حضرت واہب حقیقی نے اسرار ربانی میں صاحب تجربہ کر دیا ہے وہ اس کو خوب سمجھتے ہیں لئے " القاء کے متعلق حضرت امام جماعت احمدیه بیدالله حضرت امام جماعت احمدیه کا ایک اہم وضاحتی بیان ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر الخزينة نے القاء روحی خفی کے متعلق مندرجہ ذیل مزید تصریحات فرمائی ہیں :- اس وحی کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ وہی دوسری ونیوں کے ساتھ مل کر آتی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وحی دوسری وجیوں کے بعد آتی ہے تاکہ لوگوں کو کسی قسم کا دھوکہ نہ لگے ہائیوں کو تمامتر دھوکہ اسی۔۔۔وحی کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لگا ہے" "وہ اپنے دل کے ہر خیال کا نام وحی رکھنے کے عادی ہیں۔چنانچہ بہاء اللہ کے دل میں جو خیال آتا تھا وہ کہہ دیتے تھے کہ یہ وحی ہے اسی طرح وہ جو کچھ لکھتے ہیں اسی کو وحی قلبی خفی قرار دیتے ہیں۔" له برا بین احمدیہ طبع اول ع ۲