المبشرات

by Other Authors

Page 43 of 309

المبشرات — Page 43

ایک میت کی طرحہ اس کو حرکت پڑا ہوتا ہے یہ الہام اکثر ان صورتوں میں نازل ہوتا ہے کہ جب خدا وند کریم و رحیم اپنی عین حکمت اور مصلحت سے کسی خاص دعا کو منظور کرنا نہیں چاہتا یا کسی عرصہ تک توقف ڈالنا چاہتا ہے یا کوئی اور خبر پہنچانا چاہتا ہے کہ جو بمقتضائے بشریت انسان کی طبیعت پر گراں گزرتی ہو مثلاً جب انسان جلدی سے کسی امر کا حاصل کولیت چاہتا ہو اور وہ حاصل ہوتا حسب مصلحت ربانی اس کے لئے مقدر نہ ہو یا توقف سے منقدر ہو لے نیز فرماتے ہیں :- ہمارا تجربہ ہے کہ تھوڑی سی غنودگی ہو کر اور بعض اوقات بغیر غنودگی کے خدا کا کلام تکڑہ ٹکڑے ہو کر زبان پر جاری ہوتا ہے جب ایک مکڑہ ختم ہو چکتا ہے تو حالت غنودگی جاتی رہتی ہے پھر مہم کے کسی سوال سے یا خود بخود خدا تعالٰی کی طرف سے دوسرا ٹکڑہ الہام ہوتا ہے اور وہ بھی اسی طرح کہ تھوڑی سی غنودگی وارد ہو کر زبان پر جاری ہو جاتا ہے اسی طرح بسا اوقات ایک ہی وقت میں تسبیح کے دانوں کی طرح نہایت بلیغ فصیح لذیذ فقرے غنودگی کی حالت میں زبان پیر سے بری ہوتے جاتے ہیں اور ہر ایک فقرہ کے بعد غنودگی دور ہو جاتی ہے اور وہ فقرے یا تو قرآن شریف کی بعض آیات ہوتی ہیں اور یا اس کے مشاہد ہوتی ہیں اور اکثر علوم غیبیہ پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان میں ایک شوکت ہوتی ہے اور دل پر اثر کرتی ہیں ایک لذت محسوس ہوتی ہے اس وقت دل نور میں عشق ہوتا ہے گویا خدا اس میں نازل ہے اور در اصل اس کو الہام نہیں که برا امین احمدیہ حصہ سوم می ۲۲ ۳۲۲۰ طبع اول حاشیه