المبشرات — Page 42
۴۲ بلا واسطہ وحی | وحی لفظی میں بلا واسطہ وحی کو اولیت حاصل ہے۔بلا واسطہ وجی کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ اس کے ساتھ فرشتوں کا نزول نہیں ہوتا مراد فقط یہ ہے کہ اس ذریعہ کلام میں فرشتوں کا توسط نہیں ہوتا خدا کی قدرت سے آواز پیدا ہوتی ہے ورنہ ہر نوع کا کلام اپنی ملائکہ کی حفاظت ہی میں اُترتا ہے۔حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ الحدید کے مشاہدات کے مطابق بلا واسطہ وحی کے چار مراکز ہیں :- اول - کان -: یعنی کانوں سے خدا کی آواز آتی ہے۔دوم زبان: یعنی زبان پر کلام الہی جاری ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس وحی کی کیفیت یوں بیان فرمائی ہے۔جب خدا وند تعالیٰ کوئی امرغیبی اپنے بندہ پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو کبھی ترمی سے اور کبھی سختی سے بعض کلمات زبان پر کچھ تھوڑی غنودگی کی حالت میں میاری کر دیتا ہے اور جو کلمات سختی اور گرانی سے جاری ہوتے ہیں وہ ایسی میران اور عنیف صورت میں زبان پر وارد ہوتے ہیں جیسے گڑے یعنی اولے یکبارگی ایک سخت زمین پر پڑتے ہیں یا جیسے تیز اور پر زور رفتار میں گھوڑے کا کم زمین پر پڑتا ہے۔اس الہام میں ایک عجیب سرعت اور شدت اور ہیبیت ہوتی ہے جس سے تمام بدن متاثر ہو جاتا ہے اور زبان ایسی تیزی اور بارعب آواز میں خود بخود دوڑتی جاتی ہے کہ گویا وہ اپنی زبان ہی نہیں اور ساتھ اس کے جو ایک تھوڑی سی غنودگی اور ربودگی ہوتی ہے وہ الہام کے تمام ہونے کے بعد تی الفور دور ہو جاتی ہے اور جب تک کلمات الہام تمام نہ ہوں تب تک انسان