المبشرات — Page 281
۲۹۷ گرتی جاتی تھیں۔درخت دیے جاتے تھے۔گاؤں اور شہر تباہ ہوئے جاتے تھے پانی میں لوگ ڈوب رہے تھے کسی کے گلے گھلے کسی کے منہ تک کسی کے سر کے اوپر پائی پڑھا جاتا تھا اور ڈوبنے والوں کا بڑا دردناک نظاڑ تھا یکلخت وہ پانی اس مکان کے بھی قریب آگیا۔میں پر میں کھڑا تھا اور اس کی دیواروں سے ٹکرانا شروع ہو گیا آگے پیچھے کی آبادی کو تباہ و برباد ہوتا دیکھ کر بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا۔" نوح کا طوفان " پھر پانی اس مکان کی چھت پر پڑھنا شروع ہوا۔اس کے ارد گرد جو دیوار تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پانی اسے توڑ کر اندر آنا چاہتا ہے اور لہریں دیوار کے اوپر سے نظر آتی تھیں اس وقت مینے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا مجھے کہیں آبادی نظر نہیں آتی تھی اور پانی ہی پانی نظر آتا تھا جب پانی چھت پر بھی آنے لگا تو مینے گھبراہٹ میں پکا رہکار کے اس طرح کہنا شروع کیا۔G اللَّهُمَّ اهْتَدَيْتُ بِهَديكَ وَأَمَنْتُ بِمَسِينِيكَ اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موجود علیہ السّلام دوڑے چلے آتے ہیں اور گویا لوگوں سے فرماتے ہیں کہ یہی فقرہ پڑھو تب تم اس غذاب سے بچ جاؤ گے۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نظر آئے لیکن یہ میرا خیال تھا کہ آپ لوگوں کو یہ فرما رہے ہیں اتنے میں مینے دیکھا کہ پانی کم ہونا ہوا اسی شروع ہوا اور چھت گیلی گیلی نظر آنے لگی۔اسی گھبراہٹ میں میری آنکھ کھل گئی"۔(مرتب) دنیا کے مختلف ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے، اس وقت تک متعدد بار طوفان نوح کے ہولناک نظارے دیکھ چکے ہیں خصوصاً بر صغیر ہندو لے کر اخبار الفضل مورخه ۱۳ ز دسمبر د ۶ متر کالم ۲ ه د نیز الفضل ۱۲ نومبر تا در صد کام مکہ میں وہا شام سے اس کا تعلق ہے،