المبشرات — Page 237
۲۵۳ ہیں، اور دُور کھڑے ہو کر ہی فائر کرتے ہیں اتنے میں بکنے دیکھا کہ انگریزی فوج ہلی والوں کو دبانے لگی ہے اور اُس نے پھر اپنی سیڑھیوں پر واپس چڑھنا شروع کر دیا ہے جن پر سے وہ اتری تھی اس وقت میں دل میں سمجھتا ہوں کہ دو تین بار اسی طرح ہوا ہے۔چنانچہ یہ خواب لیبیا میں پورا ہو چکا ہے یہاں پہلے ڈیمن مصر کی سرحد تک پہنچ گیا تھا مگر انگریزوں نے پھر اُسے پیچھے بنا دیا پھر دشمن نے انگریزوں کو پیچھے ہٹا دیا۔اور اب پھر انگریزوں نے اُن کو پیچھے بیٹا دیا ہے اور یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثال کہیں تاریخ میں نہیں پڑتی کہ چار دفعہ ایسا ہوا ہو کہ پہلے ایک قوم دوسری کو ایک سرے سے دباتی ہوئی دوسرے مرے تک جا پہنچی ہو اور پھر وہ اُسے دبا کر اُسی سرے تک لے گئی ہو اور ایک مرتبہ پھر وہ اُسے دبا کرہ ہیں پہنچا آئی ہو۔اور چوتھی دفعہ پھر وہ اُسے دبا کر واپس لے گئی ہو نے (مرتب)، لیبیا کے محاذ جنگ کا یہ نقشہ ایسا مکمل اور بعد کو پیش آنے والے واقعات سے اس درجہ مطابقت رکھتا ہے کہ عقل ورطہ حیرت میں پڑ جاتی ہے۔سید نا حضرت اقدس المصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہر نومبر 20 ء کو اس عظی ایشان رویا کی واقعاتی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا : تاریخ میں اس بات کی کوئی مثال نہیں مل سکتی کہ کوئی دشمن کسی ملک میں تنی دُور تک آگیا ہو اور پھر دوسری فوج نے اسے مجھے دھکیل دیا ہو گر لیبیا کی لڑائی میں تین دفعہ ایسا ہو چکا ہے اور تینوں دفعہ ایک فریق نے یہی سمجھا کہ اس نے دوسرے کو تباہ کر دیا ہے پہلے ۱۹۲۰ء میں اطالوی فوجیں آگے بڑھیں اور انہوں نے انگریزی فوجوں کو پیچھے ہٹا دیا تا ء کے آخر میں پھر الفضل ار جنوری ۱۹۳۳ء ص کالم ۲- ۳