المبشرات — Page 34
1 ۳۴ مذہب میں کلام الہی" اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ عقل و فکر نے جس امر کا امکان ثابت کیا ہے مذہب آسکی عینی شہادت پیش کرتا ہے کیونکہ دنیا میں میں قدر مذاہب ہیں وہ کلام الہی کی بنیا ہی پر قائم ہیں اور جو نبی اور صلحاء بھی آئے وہ سب یہ دھونی لے کر اُٹھے کہ وہ خدا جس نے انسانیت کی مادی ضروریات مہیا فرمائیں اس نے ہمیں اس کے روحانی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ہم کلامی کا شرف بخشا۔یہ انبیاء و صلحار ابتدا آفرینش سے اب تک مختلف قوموں مختلف زمانوں اور مختلف خطوں میں ظاہر ہوئے۔ہزاروں سال سے کلام الہی کے علمبرداروں کی مسلسل آمد اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ موجود ہے اور وہ اپنے راستباز بندوں کو شرف مکالمہ مخاطبہ سے سرفرار فرماتا ہے۔دُنیا کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ منفی Negative ) پہلو کی نسبت ترجیح ہمیشہ مثبت ( Positive) کو دی جاتی ہے کیونکہ عدم کی تاریخی وجود کی روشنی میں نہیں ٹھہر سکتی۔دنیا کی کوئی بین الاقوامی عدالت مثبت شہادتوں کو نظر اندازہ کر کے منفی شہادتوں کا سہارا نہیں لے سکتی۔پس جب لاکھوں نہیں کروڑوں کی تعداد میں ایسے شاہد عادل موجود ہیں جو کلام انہی کے بارہ میں اپنا تجربہ رکھتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اُن پر اعتماد نہ کریں۔ہم یہ تو کہہ سکتے کہ ہم اس تجربہ سے محروم ہیں لیکن ان کے تجربہ کو غلط کہنے > 02 کا حق ہمیں حاصل نہیں ہے خصوصاً جبکہ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ :۔۱۔یہ مقدس وجود و جاہت کو شخصیت کے لحاظ سے اس پایہ کے تھے کہ اگر و اپنی ذات سے کوئی بات کہتے تو دنیا کو دم مارنے کی مجال نہ ہوتی۔۲۔وہ ابتدا ہی سے جلوتوں سے منتظر اور خلوتوں کے والہ وشیدا تھے انکی پاکیزہ