المبشرات — Page 33
اور اس کی طرف سے انعام و اکرام نہیں تو اور کیا ہے ؟ (شخص) اب جب نظام عالم سے خالق کائنات کا وجود قطعی طور پر ثابت ہوا تولا محالہ عقل کو تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ خدا جس نے انسان کی مادی زندگی کی بقا کے لئے اتنا عظیم الشان انتظام فرمایا اس نے ہماری روحانی تشنگی بجھانے کا بھی ضرور بندو بست کیا ہو گا آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ اُس کی تعلیم و تربیت سے پچھلی اور بھر تو حصہ لے مگر انسان اس سے محروم رہ جائے مفصل کو یہ بھی مانے بغیر چارہ نہیں کہ وہ کامل حکیم و بینا خدا جس نے انسانوں کو زبان بخشی ہے خود قوت گویائی سے محروم نہیں ہو سکتا۔اور چونکہ موجودہ سائنس نے یہ بھی ثابت کر دکھایا ہے کہ مادہ (ایٹم) کی کڑیاں جوں جوں لطیف سے لطیف تر ہوتی جاتی ہیں اُن میں بے پناہ قوت کا اضافہ ہوتا جاتا ہے مثلاً ایکٹونز پروٹونز سے زیادہ بنیولا میں اور نیولے کے مقابل اینتھر کی شعاعوں میں طاقت بہت زیادہ ہے۔لہذا اس تحقیق کے مطابق ہمیں ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ لطیف ترین اور وراء الورا، وجود ہونا چاہتے جو ماوی ہاتھوں کے بغیر پیدا کرتا مادی آنکھوں کے بغیر دیکھتا اور مادی زبان کے بغیر کلام کرتا ہو عقل کی قوت پر واز جب اس مقام تک پہنچتی ہے تو اسے سب سے آخر میں یہ نظریہ بھی قائم کرنا ضروری ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ کی صفت خالقیت صفت بصیر و خبیر نہایت شان سے ظاہر ہو رہی ہیں اسی طرح صفت تحکیم کا بھی ظہور ہو یعنی وہ محض اشاروں ہی میں اپنی منشا نہ بتائے بلکہ ایسا فصیح و بلیغ کلام فرمائے جو انسانی فصاحتوں اور بلاغتوں کا سحر ختم کر دے اور جس طرح آئی مصنوعات کے مقابلہ میں انسانی عقلیں ناکارہ ہیں اسی طرح اس کا نازل کردہ کلام کبھی انسانی قدرتوں سے بالا اور خارق عادت رنگ رکھنے والا ہو۔ه ما خود از رساله اسرار الحکمت لاہور اگست ۵۳نه ۱۳۰