المبشرات — Page 185
۱۹۳ ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد اس پھونس کو آگ لگا دیں میں اس بات کو دیکھ کر واپس بھاگا کہ ان کو روکوں لیکن میرے پہنچتے پہنچتے انہوں نے آگ لگا دی تھی میں اس آگ میں کو دپڑا اور اُسے میں نے بجھا دیا لیکن تین کٹڑیوں کے سرے مبل گئے۔یہ خواب میں نے اُسی دن دوپہر کے وقت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سرورشاہ سنائی بوٹن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ یہ خواب تو پوری ہو گئی ہے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میر محمد اسحق صاحب نے چند سوالات لکھ کر حضرت خلیفہ اسی کو دیئے ہیں جن سے ایک شوری گیا ہے۔اس کے بعد میں نے حضرت خلیفہ اسی کو روتا لکھ کر دی اور آپ نے وہ رقعہ پڑھے کہ فرمایا کہ خواب پوری ہو گئی ہے اور ایک کاغذ پر مفصل واقعہ لکھ کر مجھے دیا کہ پڑھ لو۔جب میں نے پڑھ لیا تو لے کر پھاڑ دیا۔۔۔۔چنانچہ یو رو یا حرف بحرف پوری ہوئی۔اور ان سوالات کے جواب میں بعض آدمیوں کا نفاق ظاہر ہو گیا اور ایک خطر ناک آگ لگنے والی تھی لیکن اللہ تعالے نے اُس وقت اپنے فضل سے سمجھا دی۔ہاں کچھ کٹڑیوں کے سرے جیل گئے اور ان کے اندر ہی اندر یہ آگ دہکتی رہی۔اس خواب میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ پھونس آخر جلا ہی دیا جائے گا اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔د برکات خلافت طبع اول من (۳۹) ابھی کسی جلسہ وغیرہ کی تجویز نہ تھی ہاں خلافت کے تعلق فتنہ ہو چکا تھا کہ میں نے " رویا میں دیکھا کہ ایک جلسہ ہے اور اس میں حضرت خلیفہ اول کھڑے تقریر کر رہے نہیں اور تقریر مسئلہ خلافت پر ہے اور جو لوگ آپ کے سامنے بیٹھے ہیں۔اُن میں سے کچھ مخالف بھی ہیں۔میں آیا اور آپ کے رہنے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ حضور کوئی فکر نہ کریں ہم لوگ پہلے مارے جائیں گے تو پھر کوئی شخص حضور تک پہنچ سکے گا ہم آپ کے خادم ہیں۔چنانچہ یہ خواب حضرت خلیفہ اول کو سنائی۔جب جلسہ کی تجویز ہوئی اور