المبشرات — Page 184
1۔۱۹۲ تیسری خبر کم شاہ کی بات ہے ابھی مجھے خلافت کے متعلق کسی جھگڑے کا علم نہ تھا صرف ایک صاحب نے مجھ سے حضرت خلیفہ اسے اول کی خلافت کے قریب پندرھویں دن کہا تھا کہ میاں صاحب اب خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کچھ غور کرنا چاہیے جس کے جواب میں پینے ان سے کہا کہ یہ وقت وہ تھا کہ سلسلہ خلافت قائم نہ ہوا تھا جبکہ ہونے بیعت کرلی تو ایک خادم مخدوم کے اختیارات کیا مقرر کرین گے جسکی بیعت کی اس کے اختیارات ہم کیونکر مقرر کر سکتے ہیں اس واقعہ کے بعد کبھی مجھ سے اس معاملہ کے متعلق کسی نے گفتگو نہ کی تھی اور میرے ذہن سے یہ واقعہ اُتر چکا تھا کہ جنوری ملہ میں کینے یہ رویا دیکھی۔کہ ایک مکان ہے بڑا عالیشان سب تیار ہے لیکن اس کی چھت بھی پڑتی بانی ہے کڑیاں پڑ چکی ہیں ان پر اینٹیں رکھ کر مٹی ڈال کر کوٹنی باقی ہے ان کڑیوں پر کچھ پھونس پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد الحق صاحب کھڑے ہیں اور ان کے پاس میاں بشیر احمد اور نشار احمد مرحوم دجو پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی کا صاحبزادہ تھا، کھڑے ہیں میر محمد اسحق صاحب کے ہاتھ میں ایک ڈبیہ دیا سلائیوں کی ہے اور وہ اس پھونس کو آگ لگائی چاہتے ہیں میں انہیں منع کرتا ہوں کہ ابھی آگ نہ لگائیں انہیں تو کڑیوں کو آگ لگنے کا خطرہ ہے ایک دن اس پھونس کو جلایا تو جائیگا ہی لیکن ابھی وقت نہیں بڑے زور سے منع کر کے اور اپنی تسلی کر کے میں وہاں سے لوٹا ہوں لیکن تھوڑی دور جا کر مینے پیچھے سے کچھ آہٹ سنی اور منہ پھیر کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر محمد اسحق صاحب دیا سلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی وجیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں وہ نہیں جلتیں پھر اور نکال کر ایسا ہی کرتے