المحراب

by Other Authors

Page 59 of 207

المحراب — Page 59

کے علاوہ سرحدی علاقہ کے بھی بعض معزز اصحاب آئے تھے۔خواجہ حسن نظامی صاحب المسیح الثانی قادیان اور قریبی علاقوں کے کثیر تعداد میں احباب کے ساتھ ریل یہ کہ نے بھی اپنی آمد کی اطلاع بذریعہ خط اور تار دی تھی۔مگر اجی مصروفیات کی وجہ سے قادیان پہنچے۔بہت دعاؤں کے ساتھ شاندار استقبال ہوا۔بینرز میں سے ایک پر یہ تشریف نہ لاسکے۔الفضل در جنوری سیم شعر بھی لکھا تھا۔اس سال مرکز میں متعد د مقامات سے اطلاعات آییں کہ دشمنان دین حق اور دشمنان مسلسله احمد به حضرت خلیفہ المسیح الثانی پر حملہ کی سازش کر ہے ہیں۔بعض معزز یہ میرے رب سے میرے لئے اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعویٰ پر مہر اللہ ہے غیر احمدی دوستوں نے حضور کو اس سلسلہ میں انتہائی گھیر اسٹ کے خطوط لکھے بیسیوں دیل گاڑی جاری ہونے کی وجسے احباب کم خرچ پر سہولت قادیان پہنچے لوگوں نے مندر خوابیں بھی دیکھیں جن میں خطرہ دکھا یا گیا تھا۔ان وجود کی بنا پر جماعت جس سے تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ہندو اور غیر احمدی احباب بھی کثرت سے آئے احمدیہ کی طرف سے جاست دلمان کے موقع پر حضور کی حفاظت کا خصوصی انتظام کیا گیا۔غیر از جماعت مہمانوں میں شمس العلماء مولانا الطاف حسین صاحب حالتی کے صاحبزادہ ولید سجاد حسین صاحب اور خان بہادر نواب محمد دین صاحب ریٹائر ڈ ڈپٹی کمشنر بھی تھے۔جاسه لانه مستورات مؤخر الذکر مخلص احمدی ہوئے) ان کے علاوہ سرکاری عہدیدار جن میں مجسٹریٹ ، وکلام اس دفعہ ملبہ گاہ زنانہ کا انتظام ایک بڑے احاطہ میں اندرون قصبہ کیا گیا۔بیرسٹر روک علی گڑھا اور اسلامیہ کالج لاہور کے پر وفیسر شامل تھے۔بڑی کثیر تعداد ہونا کافی ثابت ہوا۔میں آئے تھے۔۲۳ دسمبر کو حضور نے انتظامات کا معائنہ فرمایا اور اپنے دست مبارک سے غیر مسلموں میں بنارس یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو راج قابل ذکر ہیں۔بعض افسران کو بیچتر لگائے اور ہدایات دینے کے لئے ایک مختصر تقریر کی۔اس گردو نواح کے ہندو سکھ بھی شریک ہوئے۔مالا بار، کابل اور مارسیٹس سے بھی کے بعد زنانہ جلسہ گاہ کا معائنہ کیا اور کارکن خواتین سے خطاب فرمایا۔حضور نے اصلاح المومنات کے موضوع پر عورتوں میں تقریر فرمائی۔مہمان آئے تھے۔۲۳ ستمبر کے بعد قادیان آنے والوں کی کثرت کا یہ عالم تھا۔کہ محکمہ ریونے کو اس مرتبہ جلسہ گاہ کو گذشتہ سال کی نسبت سو گنا بڑا بنایا گیا۔اس کے خوانین کے جلسہ میں حضرت مولوی سیدمحمد سرور شاہ حضرت صوفی غلام محمد معمول کے مطابق گاڑیوں کے علاوہ اسپیشل ٹرین روزانہ چلانی پڑی جو ۱۲۸ دسمبزنگ حضرت حافظ روشن علی، حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی احضرت مولوی غلام رسول تباری رہی۔را جیکی، حضرت مولوی عبد الرحیم نیر اور حضرت مفتی محمد صادق نے خطاب کیا۔عورتوں میں سے رضیہ صاحیہ پریذیڈنٹ مجلس مدرسہ خواتین نے اسکول کی باوجود حضور کی تقریرہ کے وقت جگہ کی کمی محسوس ہوئی۔رپورٹ پڑھی سیکریٹری لجنہ نے رپورٹ پیش کی اور صاحبزادی امتہ السلام نے مضمون بلہ پر مکانات کی قلت کا یہ حال تھا کہ ہمانوں کے قیام کے لئے منتظمین نے راتوں رات بھاگ دوڑ کر بعض مالکان مکانات کو اپنے اپنے مکان کے ایک ایک کرہ پڑھا۔تاریخ لجينه جلد اول حنا) بیعت پر جا کے موقع پر اڑھائی سو مردوں اور سوا دو سو کے قریب میں مع اہل وعیال گزارہ کرنے پر آمادہ کر کے ان کے بقیہ حصے خالی کرالئے ہندوؤں عورتوں نے بیعت کی۔۳۷ سینیسواں جلسہ سالانہ منعقده ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۲۹ بمقام ملحقہ میدان بیت النور قادیان سے بھی مکانات لینے پڑے۔قادیان کے مضافات میں پانی کھڑا رہنے کی دجیسے کیسر (ایک قسم کی گھاس) با شکل پیدا نہیں ہوئی تھی۔لہذا گورداسپور اور تارنگ لیے اسٹیشنوں سے پرالی کی ایک ایک گاڑی لائی گئی۔خلاصه الافضل جنوری ۱۹۲۹) ۲۲ دسمبر کو با وجود علالت و نقاہت کے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے افتاحی خطاب فرمایا اور احباب کو تلقین کی کہ ہماری دعا حقیقی ہوتی چاہیئے۔جو دعا عرش کو نہیں ہوتی وہ اس جسم کی طرح ہے جو بلا روح کے ہوا اور اس تلوار کی طرح ہے جو کند ہوا ور سجائے مفید اثر پیدا کرنے کے ویل تنمصلین کے مطابق دعاکرنے والے کو کاٹ دیتی ہے کیونکہ ایسی دعا خدائے خالق ارض وسما سے تسحر ہوتی ہے۔اس کے که به تاریخی اہمیت حاصل تھی کہ اس سال حضرت مسیح پاک کی تقاریان بعد حضور نے اجتماعی دعا کروائی۔میں ریل آنے کے متعلق پیش گوئی پوری ہوئی چنانچہ 19 دسمبر کو پہلی دفعہ حضرت خلیفہ