المحراب

by Other Authors

Page 60 of 207

المحراب — Page 60

۲۷ دسمبر کے دوسرا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے جماعت کی تمدنی ترقی کے ذرائع بتائے۔نیز مولوی محمد علی صاحب کے مقابلہ پر تفسیر القرآن لکھنے کے چیلنچ کا بھی اعادہ فرمایا۔۲۸ دسمبر کو حضور نے فضائل القرآن کے عنوان پر ایک اہم سلسلہ تقاریر کا آغاز فرمایاہو یا استناد ۱۳ تا ۹۳۵اد ۹۳ار کے جلسہ تک جاری رہا۔حضور کی تقریر کے دوران بارش ہوتی رہی۔لیکن احباب کے اصرار پر حضور نے تقریر جاری رکھی اور دو گھنٹہ تقریر کی اور پھر دعا کرائی۔حضور کی یہ تقاریر فضائل القرآن" کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہیں۔جلاس لانه مستورات ریل کی سہولت کی وجیسے مستورات کثرت سے آئیں۔۲۶ دسمبر کو قلت محسوس ارتیں واں جلسہ سالانہ منعقده ۲۹,۲۶۲۷ دسمبر ۱۹۳۹ بمقام و ملحقه میدان بیت النور قادیان جلسہ سالانہ کے لئے ہندوستان کے ہر حصہ اور ہر طبقہ کے لوگوں کے علاوہ بیرونی ممالک کے اصحاب بھی تشریف لائے۔سماٹرا اور افریقہ کے احباب بھی شامل ہوئے۔کئی معزز غیر احمدی اور غیر سلم اصحاب اور بعین غیر مبائع احباب بھی موجود تھے۔۲۷ دسمبر کو صبح کے اجلاس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے افتاحی تقریر کرکے راتوں رات چٹائیوں کے ذریعے باپردہ احاطہ میں وسعت پیدا کی گئی۔فرمائی جس میں احباب کو خصوصیت سے دعاؤں کی طرف توحیہ دلائی۔اس موقع پر باوجود علالت طبع کے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مستورات سے خطاب فرمایا اور قیمتی نصائی سے نوازا۔حضور نے فرمایا در اگر پہلے تم نے اپنی حالت میں تبدیلی نہیں کی تو اب اپنی حالت میں تغیر پیدا کرد۔مخلوق خدا کی ہمدردی کرو کسی کی مصیبت کو اپنے مصیبت سمجھو۔دکھ میں شامل ہو۔لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ شخص بڑی نمازیں پڑھتا ہے اس کا نماز پڑھناک فائدہ دیتا ہے جبکہ اس کا وجود ان کے لئے مفید نہ ہوا۔پس اپنی زندگی اور اپنے وجود کو مفید بناؤ۔۲۷ دسمبر کو حضور نے خطبہ جمعہ بھی ارست اد فرمایا۔۲۸ دسمبر کو دوسر اجلاس میں تقریر فرماتے ہوئے حضور نے بعض اہم جماعتی امور پر روشنی ڈالی۔ر دسمبر کو اختتامی اجلاس میں حضور نے جلسہ سالانہ وار کے موقعہ پر شروع کئے جانے والے مضمون " فضائل القرآن " کو جاری فرماتے ہوئے خطاب فرمایا۔اس جلسہ میں ہونے والی دیگر تقاریر کی روداد حسب ذیل ہے۔حضور کے افتتاحی خطاب کے بعد خان صاحب ذوالفقار علی خان نے ناظر اس کے بعد ایک ہندوں الہ آتم پر کاش نے تقریر کی جس میں انہوں نے حضرت محمد خواتین کے جلسہ سے حضرت مولوی سید محمد سرور شاه حضرت مفتی محمد صادق ضیافت حضرت میر محمد اسحاق کی طرف سے خطبہ استقبالیہ پڑھا۔حضرت چوہدری فتح محمد حضرت مولوی غلام رسول را جیکی ، ڈاکٹر محمد رمضان صاحب حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی ، حضرت مولوی محمد ابراهیم بقا پوری، حضرت ما فظ غلام کیا صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شات کا اظہار کیا۔ضرت سی و پر اعتراضات اور ان کم حضرت مولی اله ته کے جواب دریہ آبادی اور حضرت صوفی غلام محمد نے خطاب کیا۔عورتوں میں سے محور میگم دختر ڈاکٹر سید غلام حسین صاحب ، اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی محمدابراهیم با پری افتخار بیگم صاحبه دختریشیخ محمد حین صاحب ہیمور بیگم ہند تمدن اور ہندوستان پر اسکے اثرات حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحبه بوده حکیم غلام محمد صاحب نے تقاریر کیں اور سیکر ٹری لبتہ نے سالانہ رپورٹ عفو کے متعلق حضرت مسیح موعود کی تعلیم حضرت مولوی شیر علی حضرت مولانا عبد الرحیم نیر پڑھی۔بارش کی وجہ سے ۲۰ دسمبر کو دوپہر دو بجے کے بعد جلسہ ختم کرنا پڑا۔حضرت مسیح موعود کا اسود کے کس مقام پر کھڑا کرنا چاہتے تھے حضرت بی مواد اپنی جماعت کو رعایت حضرت شیخ الیعقوب علی عرفانی بیعت : حلیہ پر قریباً ۳۰۰ مردوں نے اور ہم عورتوں نے بعیت کی۔مسئله مود حضرت جو مہدری محمد ظفر اللہ خان 47 ختم نبوت حضرت مولوی غلام رسول را جیکی حضرت رسول کریم صلی الہ علیہ و سلم کی شادیاں شیخ عبد الرحمان مصری بر هموارم اور دین حق قاضی محمد اسلم صاحب