المحراب

by Other Authors

Page 139 of 207

المحراب — Page 139

لہ میں تنگر خانہ کی عمارت کے لیے علیحدہ کمرے بنائے گئے آئیندہ دو سالوں میں مزید توسیع کی گئی۔۲۴ ۹ہ میں سہولت کے خیال سے جلسہ سالانہ کے انتظامات مختلف عہدوں اور مدات میں تقسیم کیے گئے۔لنگر خانہ کا انتظام بدستور حضرت میر مقاب کے پاس رہا۔حضرت مرزا غلام نبی صاحب مسگر امرتسری کو یہ سعادت حاصل رہی کہ جلسہ سالانہ کے لیے امرتسر سے دیگیں قادیان جس میں لے کر جاتے شروع میں دیگیں کرائے پر حاصل کی جائیں ، لانے لے جاتے قلمی کرانے پر بہت اخراجات الھ جاتے آپ نے حضرت میرا سطحی صاحب کو تجویز دی کہ ہر جماعت کو ایک در یک عطیہ دینے کی تحریک کی جائے حضرت میر صاحب کو یہ تجھ نہ پسند آئی اور فرمایا کیونکہ یہ تجویز آپ کی ہے اس لیے سب سے پہلی دیگ بھی آپ ہی دیں۔چنانچہ آپ نے لنگر خانہ کو پہلی دیگ علیہ دینے کا شرف حاصل کیا اس دیگ پر یہ الفافا کندہ کروائے " منکر یا حضرت بانی سلسلہ عالیہ ا حمدیہ کے لیے۔منجانب غلام نبی مسگر احمدی مستورات میں ۱۹۲۳ء سے مہمان نوازی کے فرائض حضرت سیدہ ام دار رکھتا ہے نے کمال محبت و جانفشانی سے ادا کرنے شروع کیے آپ کو کام کرنے اور کام کروانے کا بہت سلیقہ تھا۔بعد اتعالیٰ نے دردمند مزاج دیا تھا مہمانوں میں کسی قسم کی تفریق پسند نہ کر ہیں۔آپ کی زیرہ تربیت تیار ہونے والی ٹیم نرمانہ دراز تک احسن رنگ میں تعلیمات ادا کر کے گویا آپ کے فیضان کو مند کر رہی ہیں۔حضرت میرا سحق صاحب کے ساتھ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ ، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد حضرت نواب محمد عبداللہ خان کا ماسٹر علی محمد صاحب ، ماسٹر محمد طفیل صاحب، حضرت مولانا شیر علی حضرت خان ذوالفقار علی خان، پیشیخ عبد الرحمن مناب اور قاضی محمد عبد الله صاحب المبے عرصے ملک خدمات سر انجام دیتے رہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے حالات کا تیزی سے جائزہ لے کر کرزاور حصوں کی نشاندہی فرماتے اور کار کردگی بہتر بنانے کے لیے ہدایات سے نوازتے۔مہمان نوازی کی فکری مہنتی ہے ہمارے پاس کھانا نہیں ہے حضور اپنا کھانا دوسروں کو کھلا دیتے اور خود چنوں پر گزارا کر لیتے اس وقت کا نقشہ حضور نے اپنے اس شعر میں کھینچا ہے۔لنَا قَاتُ الموائدِ كَانَ أعلى فَصِرْتُ اليوم مطعام الأهالى کہ ایک وقت وہ بخت کہ دسترخوان کے بچے کچھے ٹکڑے مجھے ملتے تھے مگر اب حالت یہ ہے کہ سینکڑوں خاندانوں کو اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ رزق دے رہا ہے گویا ایک وقت وہ تھا کہ گھر کی مستورات مہمان کو بوجھ سمجھتی تھیں اور کھانا دینے سے انکار کر دیتی نقص اور حضرت نے آٹھ پہر روزے رکھے اور کیا یہ وقت کہ جاست الانہ پر ہزار ہا آدمی یہاں آتے ہیں اور ان کا رزق یہاں آنے سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور تو ہیں گھنٹوں میں ایک منٹ بھی لنگر خانہ کی ایک سرد نہیں ہوتی۔والفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۳۳ء) د کے جلسے میں انگر خانے کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ تین مقامات پر ۲۵ تنور دن رات کام کر کے پونے جو میں ہزار مہمانوں کا کھانا تیار کر تے تھے حضرت میر اسحق کی خدمات کا زمانہ ۹۳۳ یہ تک ممتند ہے آپ کے عرصہ حیات کا بیشتر حصہ مہمانان حضرت مسیح موعود کی خدمت کرنے لنگر کے نظام کو مضبوط و مستحکم کرنے میں گزر گیا یہ درویش صفت بزرگ اپنے پیچھے تربیت یافتہ خادمین کی وسیع تعداد چھوڑ گئے جماعت احمدیہ کے وہ خوش نصیب جن کو حضرت میر صاحب کی رفاقت میسر آئی بڑے کرب انگیز سرور سے ان کو یاد کرتے ہیں مجھے خدا رحمت کند این عاشقان پاک طنیت رار میں تقسیم پاک و ہند کے بعد جبکہ ملکی حالات کے باعث جماعت کو قادیان سے مہجرت کر نا پڑی قادیان میں لنگر خانے کا انتظام مستقلا حضرت صا حبزادہ مرزا وسیم احمد کی نگرانی میں رہا۔تقسیم برصغیر کے بعد جماعت احمد یہ عارضی طور پر رین باغ لاہورہ میں منتقل جلسہ سالانہ کو یہ نفسیات ہمیشہ حاصل رہی کہ حضرت مسیح موعود اور ان کے خلفائے کرام ہوئی۔رتن باغ کے ایک جھتے ہیں نگر خانہ کھول دیا گیا ملک سیف الرحمن صاحب فاضل ناظر بنفس نفیس سارے انتظات کے نگران اعلیٰ ہوتے جعفر سے خلیفة المسیح الثانی معماریان مین موعود کی خدمت کو عین سعادت سمجھتے اور ہر آنے والے مہمان کو غیر اتعالیٰ کا خاص نشان قرار دیتے۔ضیافت مقرر ہوئے اور ان کی امداد کے لیے شیخ محبوب الہی صاحب کا تقریر ہوا۔چونکہ کوئی خاص انتظام لنگر اور کارکنوں کا نہیں ہوسکتا تھا اس لیے پہلے آٹھ ماہ میں بازار سے قریباً سات ہزار کے نان خرید نے پڑھے۔سمان کی ھی کا یہ عالم تھا کہ قادیان سے صرف آٹھ دیگیں ت سے کی جلسہ سالانہ کی تقریر میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مہمانان جاسر منگوائی جاسکیں۔کی کثرت دیکھ کر خوشی کا اظہار فرمایا اور وہ دن یاد فرمائے جب حضرت اقدس خود دوسروں کے بھجوائے ہوئے کھانے پر گزارا فرماتے تھے۔حضور نے فرمایا۔حافظ معین الدین صاحب حضور کے خادم حیب گھر سے کھانا لینے جاتے تو بعض اوقات اندر سے عورتیں کہ دیا کر تہیں کہ انھیں تو ہر وقت کے آخر میں ناظر ضیافت کی فرشتہ داری حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب کو سونپ دی گئی۔آپ کے ساتھ چو ہدری حبیب اللہ خاں صاحب سیال نے کام کیا خلاصه تاریخ احمدیت جلد ۲، ص۲)