المحراب

by Other Authors

Page 140 of 207

المحراب — Page 140

پایہ تکمیل کو پہنچے تھے وہ اپنی ضرورت کے مطابق کھانا تیار کہ انہیں مینتورات کے روجہ مٹر قیامگاہ جاس الان) لنگر خانه ریوه سمبر ۱۹۳۵ء میں جماعت احمدیہ کے نئے مرکز رایوہ لئے علیحدہ نگر خانہ کا قیام ایک نا تجربہ تھا جو بفضلہ تعالی خاطر خواہ طور پر کامیاب میں پہلی عارضی عمارت کی تعمیر شروع ہوئی اس کے سات کمرے تھے ان میں سے ایک ثابت ہوا۔کمرے میں انگڑ جانے کے لئے گندم کا اسٹاک رکھا گیا۔اپریل 19ء میں اس پہلی ۱۹۵۶ میں دارالرحمت کے نگر خانہ کی مستقل عمارت مکمل ہوگئی۔اس میں ۱۲ ۲۵۷ کے چھ بڑے کرنے بنائے گئے۔اس سال دارالصدر دارالعلوم ادمہ 194 مہ سے قبل جان سالانہ کے تینوں انگوروں کے تنویروں پر کوئی چھت عارضی عمارت میں لنگر خانہ قائم ہوا زتاریخ احمدیت جلد ۱۳ ۵۰۰۲۵۰ ۱۹۴۹ء کے مہمانوں کے لئے اسٹیشن کے دونوں طرف ۵۰ بیر کیں بنائی گئی تھیں دار الرحمت میں تین لنگر خانے کام کرتے رہے۔لنگر خانوں میں سیمنٹ کی ہو دیاں ایک پہاڑی کے دامن میں نگر خانہ قائم کیا گیا جہاں تمام مہمانوں کے لئے کھانا تیار ہوتا برای گوشت دھونے کے لئے تعمیر کی گئیں۔اس جگہ ہم تنور لگائے گئے تھے۔پانچ ترک لنگر خانہ سے کھانا قیام گاہوں تک پہنچاتے۔ربوہ کے لق و دق میدان میں پانی کی فراہمی ایک بہت مشکل مسئلہ تھا اور یتھی اور کرایہ کے شامیانے اتنا کہ کام چلانا پڑتا تھا۔یہ انتظام تسلی بخش نہ تھا اور کئی ہزارہ خرچ کر کے بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی تاہم حکومت کی مدد سے چند ہمیشہ ہی اس سے تکلیف ہوتی تھی میت 197 میں دارالصد کے مرکز بھی لنگر کے تنوں ٹینکر زمیٹر آگئے جو پانی فراہم کرتے ان کے علاوہ متعدد مقامات پر پانی کے یورپ یمہ با قاعدہ چھت ڈالی گئی۔بھی لگا دیئے گئے تھے۔جلسہ سے واپسی پر حضور کو ریوہ نہیں پانی نکل آنے کی خوشخبری ۱۹۷ء میں لنگر خانہ نمبر ۲ واقع غلہ منڈی کے تنزیروں پر چھت ڈالی گئی جبکہ علی چنانچہ آئندہ سالوں میں مہمانوں کو پانی کی فراہمی آسان ہو گئی۔محلہ دار العلوم میں شامیانوں سے کام چلایا گیا البتہ شامیانے بانسوں کی بجائے پختہ نہ کر نا پڑے۔۱۹۴۹ء میں مہمانوں کے قیام و طعام کا بند و بدست حضرت سید محمود اللہ شاہ متقونوں کے ذریعے بلندی پر لگائے گئے تاکہ آگ اور دھوئیں سے دقت کا سامنا کے ذمہ تھا۔لنگر خانے کے منتظم صوفی غلام محمد صاحب تھے۔دن رات چالیس تنور گرم رہے اور ایک ایک وقت میں ساتھ ساتھ دین میں سالن وغیرہ کی تیار ہوتی رہیں اکتور دو کہ مالیہ میں جدید نگر خانہ کی عمارت کی بنیاد حضرت سا جزادہ مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے کام کی زیادتی کا بوجھ باورچیوں اور نانبائیوں پر پڑا۔حافظ مرزا ناصر احمد نے رکھی۔نصرت گریہ پرائمری اسکول کی دریع عمارت جو 19 ء میں وہ بے ہوش ہو جاتے بعض اوقات کھانے میں کچھ تاخیر بھی ہوئی مگر مہمانوں نے تیار ہوئی تھی لنگر خانہ کے لئے مخصوص کر دی گئی۔اس عمارت کے سات کردوں کو رہائش کا پے میں منتقل کرنے کے علاوہ باورچی خانہ سٹور اور کھانے کا بال بنایا گیا۔ٹی عمارت خندہ پیشانی سے برداشت کی۔اپریل سے 14 اپریل 199 کی شام تک ۷۳۷۱، مہمانوں سے کھانے کا رقبہ چار پانچ ہزار مربع فٹ تھا جبکہ 20 میں تکمیل کے بعد پوری عمارت کا کا انتظام کیا گیا۔لنگر زمانے کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کا بانام ہی لگایا گیا مجموعی رقبہ پندرہ سولہ ہزار مربع فقط ہو گیا۔نگر مہمان اس قدر تشریف لائے کہ جس طرح لنگر خانے کا انتظام عاجہ بہہ گیا اسی طرح بازار میں بھی اشیائے ضرورت ختم ہو جاتی رہیں۔حضور نے انتظامات جلسہ کے مہر شعبہ اور ہر پہلو کی ذاتی نگرانی فرمانی چنا نچھ لنگر خانہ حضرت خلیفہ الیم اللہ کے دور میں یر میں حضرت خلیفة المسیح الثالث نے ناظمین لنگر خانہ سید مسعود احمد صاب حضور لنگر خانہ میں تیاری تقسیم طعام کی مشکلات کو حل کرنے اور دیگر ضروری اور اور پروفیسر مرزا خورشید احمد صاحب کے ساتھ انتظامات کا جائزہ لیا دارالعہ کے فوری ہدایت کے لئے بعض اوقات خود تشریف لاتے رہے چنانچہ ایک موقع پر مدات مرکزی لنگر خانہ میں پہلی مرتبہ سوئی گیس سے کھانا تیارہ کر نے کا انتظام کیا گیا چنانچہ اس کے ایک نیکے اور ایک دن اٹھائی بجے دوپہر حضور لشکر نماز میں تشریف لائے اور لنگر میں مسلسل کئی روز تک دن رات کام کر کے ایسے بچہ ہے اور تقدیر تیار کئے گئے جن اپنی مفید اور ضروری ہدایات سے مشکل کشائی فرمائی۔تاریخ احمدیت ۱۳ ۲۴۳۲۲۰) میں سوئی گیس ایندھن کے طور یہ استعمال کی جائے۔متری عبد الرحمن اور اُن سے نفقات بیجار جلسہ سالانہ 19 ء کے موقع پر پہلی مرتبہ مستورات کے لئے لنگر خانہ کا تعلیمی انتقام اور جامعہ کے بڑا سو طلبا ء نے مسلسل شب و روز محنت کی انہوں نے 0x400 کیا گیا جس میں نمایاں کامیابی ہوئی۔مجموعی طور پر کام میں سہولت رہی مستورات نے کے رقبہ میں زمین کو کئی کئی فٹ گہرا کھود کر مٹی باہر نکالی اور پھر اس میں توبہ لگا کر اس اپنی لیاقت جشن کار کردگی اور تنظیمی صلاحیت کا نہایت خوش کن مظاہرہ کر کے ثابت مٹی کو دوبارہ ان کے گرد بھرا نیز ان کے درمیان سوئی گیس کی پائپ لائنیں بچھانے که دکھایا که لجنہ اماء الله ی زیر نگرانی تربیت حاصل کرنے والی متصورات نظم و ضبط ہیں اور اسے ریگیولیٹ کرنے والے آلات نصب کرنے کے لئے خاصے گہرے اور کشادہ اعلی معیار پہ پہنچ چکی ہیں۔عورتوں کی تعداد چار ہزار کے قریب تھی اگرچہ انگر خانہ کا انتظام راستے بنائے۔حضرت صاحب نے خوشنودی کا اظہار فرمایا اور سید میر داؤد احمد صاب مردوں کے ہاتھ میں تھا لیکن مستورات منتظمین کی فریبہ ہدایت ہی اس کے جملہ انتظامات اسر جلاس سالانہ کو بوقت ضرورت تو آئین سے روٹیاں پکوانے کا انتظام مکمل رکھنے 14"