المحراب

by Other Authors

Page 138 of 207

المحراب — Page 138

گھر کی بجائے باہر انتظام کرنا پڑا۔روٹی کے لیے تنور کا اور دال سالن سے واسطے دیگچیوں کی مولوی محمد علی صاحب، ماسٹر عبد العزیز صاحب، ماسٹر محمد دین صاحب امیال فخرالدین صاحب بجائے دو بڑے دریچوں اور پھر دیگوں کا تہوار تلخیص از۔۔۔المد جلد نهم حث، اباح) پٹر فقیر اللہ صاحب، حضرت قاضی خواجہ علی صاحب اڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب، قاضی حضرت نواب محمد علی خان کی روایت کے مطابق ابتدائی امیر حسین صاحب ، مولوی محمد اسماعیل صاحب ، میاں امیر احمد صاحب مدرسہ احمدیہ کے انگر مانہ کی تعمیر دریا کی بغیر شہر کے اواخر میں شروع ہوئی تھی۔کے طلباء اور قادیان کی مقامی آبادی میں سے کچھ اصحاب لنگر خانہ کی خدمت، دیگر انتظام لنگر خانے کا مینو حضرت حکیم مولوی فورالدین نے تجویز فرمایا تھا اور کھانے کی مخصوص لڑت قیام و طعام میں پیش پیش رہے۔ہماری دہلی والی حضرت استاں جان کے تجریہ اور ذہانت کی بدولت نصیب ہوئی۔محمد خلافت اولی کے آخری جلسہ سالانہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود اولین خدمت گزار حضرت میں موجود کے زمانہ میں لنگر خانہ کے احمد کو خدمت مہمانان مسیح موعود تفویض کی گئی۔آپ نے بہت قلیل عرصے میں سب تخدمات بجالانے کی سعادت حضرت شیخ انتظامات کیسے دونوں وقت خود پاس کھڑے ہو کر دو ہزار کا کھانا تقسیم کراتے اور سب یعقوب علی عرفانی، حضرت حکیم فضل الدین، حضرت مفتی فضل الرحمن، حضرت قاضی ائیرمین مہمانوں سے کھانا کھانے کے بعد گھر تشریف لے جاتے دن میں کئی بار انتظامات جلسہ حضرت بھائی عبد الرحمن قادیانی، مدرسہ احمدیہ کے استادہ اور یور ڈنگ ہاؤس کے بہت کا معائنہ کرتے اور مناسب ہدایات دیتے تھے۔سے طلباء کو حاصل رہی۔جب حضرت اقدس اپنے آخری سفر لاہو ر پر روانہ ہوئے تونگر خانے ( تاریخ احمدیت جلد چهارم (۵۲۲) خواتین کی قیام گاہوں میں قیام و طعام کا سارا انتظام حضرت سیدہ امان جان کا انتظام مولوی محمد علی صاحب کے سپرد ہوا۔(البدر قادیان) حضرت بھائی عید الزمان قادیانی ان ایام میں خدمت کو فخر خیال کرتے ہیں۔اپنے خاندان کی خواتین کے ساتھ سر انجام دیا کہ ہیں۔لنگر خانہ سے متعلق امور میں آپ ذاتی کا جلسہ آیا ڈیوٹیاں لگائی گئی مجھے کار کوبی کی لال ہو کر سیدنا امام امام خیرالانام لچسپی لیتیں اور حضرت مسیح موعود کی یاد گار کے خیال سے اس کا احترام کرتیں۔حضرت اقدس مسیح موعود کے مہمانوں کی خدمت بجالانے کا موقع دیا گیا چنانچہ اپنے آقائے دور خلافت لنگر خانہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے دور میں املی کا اعلا تا ملاد کی قائم کردہ اس یادگار کی تقریب پر اخلاص شوق اور محبت سے اس طرح خدمات بیجا لانے کی توفیق علی کر صدر انجمن احمدیہ نے بھی ایک ریزولیوشن کے ذریعے اپنی خوشنوری میں جلسہ سے انتظامات اور لنگر خانہ کی عام نگرانی حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد حضرت کا اظہار فرمایا اور حافظ عبدالرحیم صاحب مالیر کوٹلوی مرحوم کو اور مجھ کو دس دس رو پہلے نفد ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد اور مولوی محمد الدین صاحب کے انعام بھی دیا۔میںاور حافظ عبدالرحیم صاحب مرحوم دونوں مل کر انتظام جلسہ میں خدمات سپرد تھی سینکڑوں احمدی ان کی معاونت کرتے تھے۔1919ء میں لنگر خانے کے موقع پر پانچ ہزار مان متوقع تھے ان کے لیے اخراجات کا اندازہ ٹیکس ایک روپیہ نگا یا گیا اور چندہ بجالاتے رہے۔مگر اس سے کہیں بڑھ کر وہ نعمت تھی جو میری حقیقی ماں سے بھی کہیں بڑھ کر محسنہ کی اپیل کی گئی تشجیہ الاذہان ) يدة النساء ( حضرت اماں جان و ناقل) نے از راہ کرم اور غریب نوازی یہ احسان فرمایا که خود بیل کر غریب خانہ پر تشریف لائیں اور سید نا حضرت اقدس مسیح موعود کی ایک فرماتے۔۱۹۲۰ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے حضرت میر محمد اسحق کو افسر لنگر خانہ مقرر دستار مبارک مجھے بطور تبرک دے کر نوازار (سیرت آماں جان مت ۳۵) حضرت نواب محمد عبد اللہ خان مستعدی سے اسٹور کے لیے راشن کی خریداری فرمایا۔حضرت میر صاحب ہمہ صفت موصوف عالم با عمل خدا ترس اور غریب پر دور بزرگ حضرت مسیح موعود کے تھے۔اپنی دوسری اہم خدمات کے ساتھ ساتھ اس کام کے لیے موزوں ترین وجود لنگر تھانہ حضرت البیع الاول کے دور میں وصال کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے منشا کے مطابق لنگر خانہ کا انتظام صدر انجمن احمدیہ کی نگرانی میں دے دیا ثابت ہوئے۔حضرت میر محمد اسحق صاحب مہمان خانہ کو صاف ستھرا رکھتے۔بیماروں اور بوڑھوں گیا اور اس کے لیے سالانہ بجٹ ۱۲۷۶۷ روپے منظور ہوا خلافت اولی میں جو بزرگ نگر خانہ کا بطور خاص الگ اکرام تھا۔سامان لنگه بر تن دیگیں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی جمع رکھتے کے مہتم ہے ان کے نام یہ ہیں۔حضرت حکیم فضل دین بھیری ، حکیم محمد صاحب، حضرت مہمان خانے کے خرچ کے لیے ایسے رنگ میں تحریک فرماتے کہ مخاطب اس کا بہ خیر میں قانی خواجہ علی ( تاریخ احمدیت جلد چهارم ۲۳۰) شوق سے حصہ لیتے۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں فخر محسوس کرتے ہمیشہ سب سے آخر دور خلافت اولی میں مہمانان گرامی کے اضافے کے ساتھ ساتھ انتظامات میں بھی وسعت میں کھانا کھاتے۔کھانے میں کسی قسم کا تکلیف پسند نہ فرماتے۔جہاں تک ممکن ہوتا آئی گئی حضرت شیخ یعقوب علی حضرت مفتی فضل الدین، قاضی امیر حسین صاحب ہمنشی فردا فردا احباب کی مزاج پرسی فرماتے اور ان کی تکالیف دور کرنے کے لیے مستعد برکت علی صاحب ، ماسٹر مامون خان صاحب ، ماسٹر عبد الرحیم صاحب امیاں غلام محمد صا حب رہتے۔مہمان کی نفسیاتی کیفیت کا اندازہ لگا کر ضروریات مہیا کرتے۔سیکھواں امنفی سکندر علی صاحب قاضی عبدالرحیم صاحب (مضامین مظهر ) 14۔