المحراب — Page 156
ذکر سالانہ جلسوں میں پڑھی جانے والی نظموں کا ثاقب زیر دی۔لاہور احمدیت کے اسٹیج سے میر نے نظم پڑھنے کے سلسلہ کا آغاز ہ میں کل صبح آٹھ بجے اگر نظم سے جانا۔" میری دو رات کیونکر گزار ہی ہوگی اور میں نے خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کے دوران میں بیت الاقصی (قادیان) کے صحن میں اپنی خوش بختی پر کیا کیا ناز کئے ہوں گے اس کا اندازہ اور احساس میرے سوا اور کون منعقد ہونے والے اس خصوصی اجلاس سے ہوا جس سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے کر سکتا ہے۔بہر حال اگلی صبح وقت معینہ پر حاضر ہوا۔حضور نے پیڑ کے ایک خطاب فرمایا۔حضور کے خطاب سے قبل مجھے اپنی نظم پڑھنے کی اجازت مرکزی قائد ورق پر جس کا ایک کو نہ پھٹا ہوا اور غائب تھا۔لکھے ہوئے چند اشعار میرے ہاتھ ہیں تقدام الاحمدیہ صاحبزادہ مرزا ناصر احد نے ہزار ہچکچاہٹوں کے بعد عطا کی تھی۔اُن کا کہنا دینے کے بعد فرمایا۔تھا کہ حضور کی موجودگی میں معمولی حضور ی کا کلام پڑھا جاتا ہے اور اکثر وہ صاحب رکھتے ہیں جنہیں حضور خود اجازت مرحمت فرمائیں جو ضیع التلفظ ہوں اور جن کا طرز ادائیگی نے عرض کیا۔حضور میں پڑھ لوں گا۔پسندیدہ ہو۔میرے عاجزانہ اصرار بسیار پر نظم دیکھ لینے کے بعد موصوف مجھے مشروط اجازت دینے پر آمادہ ہوئے شرط به مظهری که حضرت صاحبزادہ صاحب نظم پڑھتے وقت جا نا تم کیسے پڑھ لو گے “ اسٹیج کے سامنے بیت الاقصی کی سیڑھیوں کی ایک پڑھی پر کھڑے ہوں گے میں اُن ذرا ٹھہرو! میں مریم سے کہتا ہوں کہ انہیں صاف کر کے لکھ دیں۔ہمیں حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا یا مجھ سے تو کبھی کبھی اپنا کھا خود نہیں پڑھا ادھر مجھے یہ زعم کہ میں توسیشن کورٹ کی ملازمت میں پولیس اہلکاروں کی کی طرف بھی دیکھتا ہوں۔اگر وہ ہاتھ ہلا کر بیٹھ جانے کا اشارہ کریں تو میں نظم پڑھنا کھتری کاغذوں پرنسس سے لکھی ہوئی قیمتیں پڑھ لیتا رہا ہوں۔میں نے پھر رہی بند کر دوں۔الحمد بنے کہ اب کوئی سانحہ پیش نہ آیا بلکہ جب حضور نے مجھ سے گزارش دو نہرا دی تو فرمایا۔نظم کا یہ دوسرا شعر بفرمائش کریمانه مکرر پڑھوا یا که سه اچھا کوشش کہ دیکھو۔اگر سارے اشعار ٹھیک پڑھ لئے تو انعام ملے گا۔رجمہ نور سے یوں چھیتر رباب مستی قلب بیتاب کا ہر ذرہ دعا دے ساقی میں نے جب اشعار پر دو دفعہ نظر دوڑائی تو اجازت ملنے پر تمام اشعار تحت الفاظ پردہ کرتا دینے حضور خوش ہوئے۔فرمایا : مظہر میں تمہارا العام لاتا تو حضرت صاحبزادہ صاحب وہاں سے غائب ہو گئے اور میں زیادہ اطمینان سے پڑھتے ہوں ، اور چند منٹوں کے بعد حضور ایک پلیٹ پر شیشے کا ایک دودھ بھرا گلاس لگا۔اس کے بعد حضور نے مزید تین چار شعر مکرر پڑھوائے تمام راستے صاف ہو گئے جس کے بعد فضلہ تعالی آئندہ کے لئے تمام راستے صاف ہو گئے اور میں اسی سال جب جلدہ سالانہ میں شرکت کے لئے قادیان آیا تو جماعت احمدیہ زیرہ (ضلع فیروز پور) کی ملاقات کے دوران میں اس ناچیز کو شرف مصافحہ سے نوازتے وقت حضو نے فرمایا : کیا آپ پرسوں میری تقریرہ سے قبل میری نظم پڑھے دیں گے۔اللہ الہ بہ کرم ہے حساب کہ کنواں پیار سے سے دریافت کرنے۔کیا تم میرے پانی سے اپنے کام و دہن کو سیراب کرنا پسند کر دگے ؟ جواب من عنوان و۔۔۔کے الفاظ کے ساتھ بھی میری آنکھوں سے مسرت کے در آنسو بھی جھلک پڑے۔حکم ہوا۔لے کر نمودار ہوئے جنگل اس خیالی دار تیکن سے ڈھکا ہوا تھا۔فرمایا " لو اسے پی لو“ اللہ سے خوش نہھتی۔میں نے فوراً جالی ہائی اور پینا شروع کر دیا۔دودھہ گرم تھا۔حضور نے میرا شوق اور میری بے تابی بھانپتے ہوئے مقسم لہجے میں فرمایا۔دیکھو اس میں سے میں ہرگز نہیں پیوں گا۔یہ سارا تمہارے ہی لئے ہے۔آہستہ آہت پیو۔دودھ گرم ہے۔اگر گلا خراب ہو گیا تو کل میری نظم خراب پڑھو گے " اس نظم کا مطلع تھا۔معصیت و گناہ سے دل مرا داغدار تھا پھر بھی کسی کے وصل کے شوق میں بیقرار تھا 146