المحراب

by Other Authors

Page 157 of 207

المحراب — Page 157

اخلاق عالیہ کی ایک جھلک اور پھر یہ اعزاز، به شفقت ، یه گرم یہ سعادت مجھے کندہ نا تراش کے لئے گویا و قف مختص ہوگئی۔اور وہ بھی اسس اخلاق عالیہ کے ساتھ کہ ہر سال دسمبر کے آغاز میں مجھے پرائیویٹ سکو بڑی مطلب کی طرف سے ایک رجسٹرڈ لفافہ ملا کہ حضور فرماتے ہیں : ی آپ امسال ۲۷ یا ۲۰ دسمبر کو یا ۲۷ را در ۲۸ دسمبر دونوں دن میری نظم با نظمیں پڑھ دیں گے ؟“ پر حساس قاری بخوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ غلام کا کیا جواب ہوتا ہوگا۔پھر کرم نامہ آتا کہ اور میر کو فلاں وقت آکر نظم لے جائیں میرا معمول تھا کہ میں نظم شروع کرنے سے قبل تعارفاً کبھی کلام محمود بزبات ثاقب ، کبھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے تازہ ترین منظوم ارشادات " اور کبھی کلام الامام امام الکلام کے الفاظ کہتا نہیں سنتے ہی سامعین ہمہ تن گوش ہو جاتے اور مقطع چشم میگوں میں یہ دلدوز سی حسرت کیا ہے روئے روشن پر پریشان می نگہت کیا ہے تجھ کو دیکھا تو مجھے دل کو قرار آ ہی گیا تیری بیمار نگاہوں میں بھی برکت کیا ہے جس نے ہر سانس لیا دین محمد کے لئے اس کی مستی کے سوا۔میری ضرورت کیا ہے شمع افسردہ ہو پر دانوں کی حالت معلوم جانے اس کرب میں مالک کی مشیت کیا ہے ساری دنیا کے مریضوں کو شفا دے یا رب آج معلوم ہوا ہے کہ علالت کیا ہے لیکن الی تقدیریں تو وارد ہو کر بہتی ہیں مسیح موعود کا گرامی دار جمند فرزند دلبند تک ہمہ تن گوش ہی جیتے۔عام طور پر حضور ۷ را در دود سیر کے لئے دو نظمیں کہ یہ کتے ایک دن آسمان سے بلاوا آنے پر اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں پہنچے گا۔تھے لیکن جس سال صرف ایک نظم کہنے کی فرصت ملتی تو مجھے اپنی سلسلہ سے متعلق کوئی نظم یا نعت رسول اکرم صلی الہ علیہ وسلم پڑھنے کے لئے ارشاد فرما دیا جاتا۔قیام پاکستان کے بعد بھی عہد خلافت ثالتہ کا پہلا حیات الانہ اپنی سلسلوں کے کام تو نہیں رکھتے۔اس سال کے آخر میں بھی سالانہ جلسہ منعقد ہوا اور نگاہوں نے کرسٹی صدارت پرسید نا محمود کی بجائے آپ کے پسر کا مگار یہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد دارالہجرہ ربوہ میں بھی حضور کی آخری علالت ستید نانا صر کو مکن پایا۔تلاوت کلام پاک ہو چکی توارث د ہوا نظم پڑھو اور آپ کے تک ایسی اہتمام سے جاری رہا یہاں تک کہ علالت کے باعث ایک جاسالانہ پر حضور غلام نے پیمان شکر کے عنوان سے بیج ذیل نوحہ تم خیر مقدمیہ ، پڑھا۔تونے کی مشعل احساس فروزاں پیارے دل مبھلا کیسے پھیلا دے ترا احساس پیالے ۲۷ دسمبر کو خطاب کے لئے تشریف نہ لا سکے اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد نے اپنی جلال انگیز آواز میں کمی ہوئی تقریر پڑھنے سے قبل مجھے نظم پڑھنے کے لئے ارشاد فرمایا۔میں نے تھیں است و میں حضورکی صحت کے لئے ایک دعائیہ نظم پڑھی سے مشاق پہلے بخت میرے بہکے ہوئے نغموں کو گداز احمدیت نے بہتے ہوئے آنسوؤں سے شتا۔لیکن مجھے خبر نہ تھی کہ ابھی ایک اور امتحان سے بھی گزرنا پاتی ہے ، ۲۸ دسمبر کو حضور پالکی میں بیٹھ کر جلسہ میں تشریف لے آئے اور تلاوت کے بعد اپنے مختصر ترین خطاب سے قبل فرمایا۔مناقب کو بلاؤ اور کہو کہ درہ اپنی کل والی نظم پڑھے۔“ حضور کی موجودگی میں حضور کی فرمودہ یا اپنی کوئی نظم پڑھتے وقت تو ویسے ہی حجاب احترام ، خوف اور فخرد انبساط کی ملی جلی کیفیت قلب و ذہن پر مستولی و سنتی تھی۔مگر آج تو صورت حال کاملاً مختلف تھی۔آج مجھے اپنے ان اشعار کو اُسی مرکز حسن و خوبی کے سامنے پڑھنے کے مرحلہ سے گزرتا تھا جس کی صحت ونقاہت سے متعلق وہ کئے گئے تھے۔اللہ تعالیٰ کا فضل کہ یہ مرحلہ جوں توں گزر گیا۔ہمیں تھے وہ اشعار پڑھے اور کنے دلوں نے انہیں چنچوں اور کمرا ہوں کے ساتھ منا۔اس دعائیہ نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں : پھر مری روح پر کی درد کی افشان پایدے سے اب نگاہیں تجھے ڈھونڈیں بھی توکس جاپائیں جانے کب پائے سکوں یہ دل ویراں پیارے شکر اینید که تیری گود کا پالا آیا اپنے دامن میں لئے دولت عرقان پیارے نکہ میں حسیں کے سرایت تیری تحصیل کی عضو گفتگو میں بھی دیہی حسن نمایاں پیارے دیکھ کر اس کو نگی دل کی بجھا لیتا ہوں آنے والے پر ترکیوں جان مو قربان پیارے تیری اس شمع کا پر دانہ صفت ہو گا طواف تیرے ثاقب کا ہے کہ تجھ سے یہ ماں پائے انگلی صبح جب میں جلسہ گاہ میں پہنچا تو ناظر صاحب اصلاح وارشاد نے