المحراب — Page 47
ماری ترقیات کے لحاظ سے آج کا دورہ انتہائی سروج کا زمانہ ہے شاخسانے ہیں جس سے اتحاد و یک جہتی پر کاری ضرب لگتی ہے۔افتراق سائنس وٹیکنا لوجی میں ترقی کر نے والوں نے بزعم خود، خود کو وقت کا خدا اور منافقت جنم لیتے ہیں۔کردار کی بیماریوں میں بڑا ہاتھ دور حاضرک اسی سمجھ لیا ہے۔بے تحاشا تسخیر کے عمل نے ایک طرف دہریت کی دلدل پیدا قباحتوں کا بھی ہے جن سے خیالات گندے ہوتے ہیں۔فحش لٹر پیکر محرب کر دی اور دوسری طرف شرک کے گرداب بنا دیے۔جس کا لازمی نتیجه شین اخلاق فلمیں ، بڑی محبت اور آوارگی زہر کی طرح لگ دیتے ہیں اُترتی کی حکمرانی اور انسانیت کی تذلیل کی صورت میں ظاہر ہوا۔تہذیب و تمدن ہے جس سے نفر، قمار بازی، چوری ڈاکے، اغوا، قتل اور دوسرے کی کا مفہوم بدل گیا صنعتی انقلابات جنم لینے لگے۔بشریت کی قدر و منزلت کم محنت کی کمائی پر نا جائز طریقوں سے قابض ہو جاتے میں کوئی شرم نہیں ہوتی گئی۔چونکہ ترقیات کے مفہوم کو غلط سمجھا گیا۔اس لئے انسانی اقدامہ کی رہتی۔بیمار اور مسموم ذہن و جسم قوم میں مبزدلی، مایوسی اور ناامیدی پیدا کرتے ہیں۔اور ان کی افزائش سے قومی خود کشی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ایک پیچھے اور کھرے احمدی کا فرض ہے کہ معاشرے سے ان برائیوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے شدید دفاع کرے۔قوتِ حفاظت کی اہمیت معدوم ہوتی گئی۔انسانی پیدائش کی عرض کیا ہے اور کسی قسم کی ترقی کو انسانی معراج کہا جا سکتا ہے۔قرآن پاک کا فیصلہ ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الجن والإنس إلا ليعبدود۔مدافعت نیک پاک افراد کی صحبت سے حاصل ہوتی ہے۔سین کے بینے جاگتے یعنی انسانی ترقی اس میں ہے کہ وہ عبادت کرے اپنے معبود نمونے خدا تعالے سے تعلق استوار کرنے میں معادن بنتے ہیں۔عبادات کو پہنچانے اُس کا ہر فعل خدا تعالے کی رضا چاہنے کے لئے ہو۔وہ کائنات روح کی غذا کا کام کرتی ہیں۔نماز سیکھنے سمجھنے اور قائم رکھنے کی طرف پہ تدبیر کرے اور اس کے سربستہ رازوں کا انکشاف اُسے خالق حقیقی توجہ رہتی ہے۔نمانہ کے قیام سے اس احساس میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے سے متعارف کروانا چلا جائے۔اور اس کی بے کراں قدر توں کا مطالعہ و کہ خدا تعالے ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم خدا کو دیکھ رہے ہیں۔یہ احساس مشاہدہ حمد وشکر کے جذبات پیدا کر ہے۔یہ مقصد تخلیق انس و جاں میجود ہر برائی سے ڈھال بن جاتا ہے۔برائی سے نفرت اور توبہ و استغفار سے دور کے مشرکانہ ملحدانہ اور کافرانہ نظریہ ہائے فکر کے لئے اس وجہ سے قابل گناہ کی گرد جھڑتی ہے اور آئینہ دل اس قدر بھلا ہو جاتا ہے جو قرآنی قبول نہیں ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے سامنے قرآنی سچائیوں کا مظہر کوئی مثالی سمجھ سکے۔اُسوہ حسنہ منعکس کر سکے اور خدائی انوار سے روشن تر معاشرہ بطور نمونہ موجود نہیں۔خدا تعالے اپنے بندوں کو گمراہی میں بھٹکتا ہوا ہو سکے۔ہمارے پاس امام ہائے وقت نعمت غیر مترقبہ ہیں جن کے۔درح نہیں چھوڑتا۔اس نے اپنی مدت بِكُلِّ قَومِ عاد کے مطابق زمانہ حال پیر در خطبے بر وقت حالات وضروریات کے مطابق ٹھوس معلومات نہیا کے لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند ند کو نشارة دین حق کے لئے کرتے ہیں اور بیماریوں سے مدافعت کے طریقے سمجھا سمجھا کہ یہ وحانی ترقیات بھیجا۔اس توسط سے ہر احمدی کا یہ فرض اولین ہو جاتا ہے کہ وہ انسانیت کے سامان پیدا کرتے ہیں۔ایسی شمعیں خود بھی روشن رہتی ہیں اور اپنے کو طاغوتی قوتوں کے جال سے نکال کر توحید خالص کے دامن سے وابستہ ماحول کو بھی منور کرتی ہیں۔کر دے۔اس کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اپنے گردوپیش کی اخلاقی کمزوریوں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم زندہ خدا کے ترندہ تعلق کا زندہ نمونہ اور روحانی بیماریوں سے ہوشیار رہیں تاکہ ان سے اپنا دامن بھی محفوظ رکھ بنیں۔حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) نے فرمایا کہ کامل عشق سی کامل محبت سکیں اور معاشرے کو بھی ان سے پاک کرنے کی تدا پر کریں۔اور کامل خوف سے پیدا ہوتا ہے۔کامل محبت کے حصول کے لئے ضروری خدائے واحد و توانا سے ناواقفیت خود سری کو جنم دیتی ہے۔ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا بغور مطالعہ کریں۔پھر ان رنگوں سے اپنی جس سے تجبر خود پسندی اور جاہ طلبی وجود میں آکر انسانوں کو چھو ٹے ٹیڑے نہ زندگی کو رنگین کریں۔کی تباہ کن تقسیم میں بانٹ دیتے ہیں۔ایک فرد دوسرے فرد کو کمتر جانتا ہے جیسے اللہ تعالی رحمن ہے۔بن مانگے دینے والا۔اسی طرح ہم کبھی اور تمسخر و تضحیک کا نشانہ بناتا ہے۔ایک کی ترقی دوسرے کے لئے دُکھ انسانیت کے کامل نمونہ حضرت نبی اکرم کی نہ ندگی سے سبق لیتے ہوئے ضرور تند کا باعث ہو جاتی ہے۔عداوت حدا غیبت، چغلی، الزام تراشی اسی کے کو مانگنے کی مہلت نہ دیں۔اس سے پہلے ہی اس کا حق ادا کر دیا۔اگر اس طرح ۴۹