المحراب — Page 48
ضرور ہیں پوری ہونے لگیں اور معاشرے میں لینے والوں کے بجائے دینے والے اعمال سے پتہ چلے درہم ہر لمح عشق خداوندی میں آگے بڑھے۔کوئی مہیب سے حبیب پیدا ہونے لگیں۔تو لوٹ کھسوٹ کا بازار خود بخود ٹھنڈا پڑ جائے گا۔طوفان بھی ہمیں سرویہ دو جہاں کی محبت سے یانہ نہ رکھے۔گھروں کو چلنے ہمارا خدا رحیم ہے۔سچی محنت کو ضائع نہ کرنے والا۔اگر ہم یہ مہنگ لٹنے تباہ ہونے دیں، اولاد کو قربان کر دیں۔نوکریاں ملانہ منتیں تجارتیں مالی اختیار کر لیں۔تو عدل کا وہ نظام قائم ہو گا۔جو فردین اولی کے دور کی داستانوں فوائد سب تیج دیں۔اسیری مقدر ہے تو اسی کو انعام سمجھیں کیونکہ یہ کمزوری کو زندگی دے گا۔مزدور کی مزدوری۔محنت کش کی جفا کشی۔دہقان کی اور بے بسی ہم ہیں۔قوم ، قناعت، حوصله ایثار و قربانی استقلال ۱ عرق ریزی کا اجر ضائع نہ ہوگا۔اور یوں استحصال کرنے والے نا پیدہ اور جرات پیدا کرے گی۔یہ د10 یہ دہ اوصاف ہیں جو قوموں کی سربلندی کی ضمانت حقوق غصب کر نے والے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔اور معاشرتی سکون ہوتے ہیں اور چیچی میں پیسے جانے کے بعد ہی حاصل ہوتے ہیں۔جوئر جھے کا نا سیکھ جاتے ہیں اُنہیں خدا تعالے لانہ ما سر بلند کرتا ہے۔یہ سر بلندی قائم ہو گا۔اور میرا آقاد مولا رب العالمین ہے۔اگر ہم صفت ربوبیت سے چٹانوں کی مضبوطی عطا کرتی ہے مگر رحم دلی میجر انحسار ہمدردی اور فروتنی حصہ لیتے ہوئے ہر اس انسان کو جو ہمار ے نہ یہ سایہ ہے۔مثلا اولاد بہن بھائی خدا تعالے کے عرش سے رحمت کے فرشتوں کو مدد گار بنا دیتی ہے۔ہم سے مز در رشتہ دار، پڑوسی ملازم معاشرے کے غریب افراد ان کی جائ پہلوں کے ساتھ بھی یہ ہوتا آیا ہے مگر ہر حالت میں مخلوق خدا کے لئے ضروریات کو اپنی حیثیت کے مطابق پورا کر نے کی کوشش کریں۔ساتھ ہی ماؤں سے بڑھ کر شفقت کا سلوک کیا ہے۔ہم نے بھی یہ ورثہ آئندہ نسلوں تربیت۔اچھے کاموں پر انعام - النا پیر احسان کا سلوک روا رکھیں یکمزوروں میں منتقل کرنا ہے۔تاکہ ہماری اولاد اس نیک ورثہ کی وجہ سے سادہ زندگی پر مہربانی کر یں۔تو یقیناً ہم اپنے گردو پیش کو جنت بنائیں گے۔سادہ غذا سادہ طرفہ معاشرت کی عادی ہو۔ہماری مالی قربانیاں۔ہمارے اسی غرض کے لئے ہمارے آقا سیدنا و امامنا حضرت محمد مصطفے جذبات، احساسات و خواہشات کی قربانیوں سے رنگین ہوں۔مبعوث ہوئے اور آپ کے اخلاق ستو الہی صفات سے رنگین تھے۔آج انی الہی صفات کو احمدیت زندہ کر رہی ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو قرآنی علوم کا محافظ۔اس کی پیشگوئیوں پر صداقت کی مہر ثبت کرنے والے۔اس کے ذریعہ دنیا دی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دنیا وی نظام انتساب کی جگہ الہی ترقیات کے زینے طے کرنے والے وجود بنائیں۔ہو نہ صرف خدا تعالے کی نظام انتساب کو انسانی ذہنوں اور دلوں میں تقائم کر دیں۔اور یہی وہ کامل عظمت کے پاسبان ہوں۔بلکہ آنحضرت کی امت ہونے کا بھی حق ادا کرسکیں۔خوف ہے جو کامل عشق کو جنم دیتا ہے۔اگر ہم عالم الغیب اور علیمہ خدا کے ہماری ذمہ داری ہے کہ آج کے دور کے انسان کو مادیت کے کرب بندے نہیں تو نیتوں کا فساد پیدا ہی نہ ہو۔اگر ہم اپنے خدا کو تقدیر و بصیر سے نکال کر روحانیت کی جنت میں بسا دیں۔اس کے لئے ہم میں سے ہر جائیں تو غلطیاں ہی سر یہد نہ ہوں۔گناہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔غفور و فرد کو تبلیغ کے میدان میں نکلنا ہو گا۔زمین کو ہموار۔چٹانوں کو نرم کرنا ہوگا۔سمیع یقین کریں۔تو دعاؤں اور التجاؤں سے اس کے آستانے کو ہلا دیں۔ان تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے لئے ہمیں اپنے وجود اگر مالک یوم الدین تصور کریں۔تو ہماری ہستی آنسوؤں کے سیلاب میں پر ایک مورت وارد دکر تی ہو گی۔ایسی موت جس سے اسلام کو زندگی ملے۔اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے بہہ جائے۔ہمیں اپنی ہستی کو نیستی میں بدلنا ہو گا۔حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہونے ہم یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم جس پاک اور توحید خالص کے کیا خوب فرمایا۔جو خاک میں ملے اُسے ملتا ہے آشنا۔اے آنزمانے والے معاشرے کی بنیاد حضرت محمد مصطفی نے ڈالی اور آپ کے بعد جسے آپ کے یہ نسخہ بھی آزما۔اونہ اسی سے ہمیں ہمارے خدا اور آفس کے غلام کا پیار روحانی فرنہ ند نے دوبارہ نہ ندہ کیا۔جس کو قائم رکھنے کے لئے آپ کے نصیب ہو گا۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔اصحاب اور آپ کے مقدس جانشین اور موجودہ امام حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے بیش بہا قربانیاں دیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔مشکلات اور مصائب کے طوفان ہمارے عزائم کو اور مستحکم کریں۔بجائے آمین یا رب العالمین۔۵۰