اللہ تعالیٰ — Page 77
LL جل شانہ و عزاسمہ پائوں پر۔خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔خدا ہر چیز پر قادر ہے۔یہ بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے یہ مختلف چیزیں اس لئے بنا ئیں کہ تا مختلف قدرتیں اس کی ظاہر ہوں۔غرض اختلاف طبائع جو فطرت مخلوقات میں واقع ہے اس میں حکمتِ الہیہ انہیں امور ثلاثہ میں منحصر ہے جن کو خدائے تعالیٰ نے آیات ممدوحہ میں بیان کر دیا۔فتدبر۔براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۰۳ تا ۲۰۷ حاشیہ نمبر ۱۱) پنڈت دیا نند کی ستیارتھ پر کاش اردو کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پرمیشر کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا ایسا کرے تو بے انصاف ٹھہرتا ہے پس اس نے مان لیا ہے کہ پر میشر محض ایک حج کی طرح ہے مالکانہ حیثیت اس کو حاصل نہیں۔ایسا ہی پنڈت دیانند نے اپنی کتاب ترجمہ شدہ کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پر میشر محدود افعال کا ثمرہ غیر محدود نہیں دے سکتا پس ظاہر ہے کہ اگر وہ مالکانہ اختیار رکھتا ہے تو محمد ود خدمت کے عوض میں غیر محدو دشمرہ دینے میں اس کا کیا حرج ہے کیونکہ مالک کے کاموں کے ساتھ انصاف کو کچھ تعلق نہیں۔ہم بھی اگر کسی مال کے مالک ہو کر سوالیوں کو کچھ دینا چاہیں تو کسی سوالی کا حق نہیں کہ یہ شکایت کرے کہ فلاں شخص کو زیادہ دیا اور مجھے کم دیا۔اسی طرح کسی بندہ کا خدا تعالیٰ کے مقابل پر حق نہیں کہ اس سے انصاف کا مطالبہ کرے۔کیونکہ جس حالت میں جو کچھ بندہ کا ہے وہ سب کچھ خدا کا ہے۔تو نہ تو یہ بندہ کا حق ہے کہ انصاف کی رو سے اس سے فیصلہ چاہے اور نہ خدا کی یہ شان ہے کہ اپنی مخلوق کا یہ مرتبہ تسلیم کر لے کہ وہ لوگ اس سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لئے مجاز ہیں۔پس در حقیقت جو کچھ خدا تعالیٰ بندہ کو اس کی اعمال کی جزائیں دیتا ہے وہ اس کا محض انعام اکرام ہے ورنہ اعمال کچھ چیز نہیں بغیر خدا کی تائید اور فضل کے اعمال کب ہو سکتے ہیں۔پھر ماسوا اس کے جب ہم خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ اپنے بندوں کے لئے مہیا کیا ہے یا کرتا ہے وہ دو قسم کی بخشش ہے۔