اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 78

ZA جل شانہ و عزاسمہ ایک تو اس کے وہ انعام اکرام ہیں جو انسانوں کے وجود سے بھی پہلے ہیں اور ایک ذرہ انسانوں کے عمل کا اُن میں دخل نہیں جیسا کہ اوس نے انسانوں کے آرام کے لئے سورج چاند ستارے زمین پانی ہوا آگ وغیرہ چیزیں پیدا کی ہیں اور کچھ شک نہیں کہ ان چیزوں کو انسانوں کے وجود اور اُن کے عملوں پر تقدم ہے اور انسان کا وجود اُن کے وجود کے بعد ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی وہ رحمت کی قسم ہے جس کو قرآنی اصطلاح کی رو سے رحمانیت کہتے ہیں۔یعنی ایسی جود وعطا جو بندہ کے اعمال کی پاداش میں نہیں بلکہ محض فضل کی راہ سے ہے۔دوسری قسم رحمت کی وہ ہے جس کو قرآنی اصطلاح میں رحیمیت کہتے ہیں یعنے وہ انعام اکرام جو بنام نہاد پاداش اعمال حسنہ انسان کو عطا ہوتا ہے۔پس جس خدا نے اپنی فیاضانہ مالکیت کا وہ نمونہ دکھلایا کہ عاجز بندوں کے لئے زمین و آسمان اور چاند سورج وغیرہ بنا دیے اس وقت میں جبکہ بندوں اور اُن کے اعمال کا نام ونشان نہ تھا کیا اس کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں کہ وہ بندوں کا مدیون ہو کر صرف اُن کے حقوق ادا کرتا ہے اس سے بڑھ کر نہیں ؟ کیا بندوں کا کوئی حق تھا کہ وہ اُن کے لئے زمین و آسمان بناتا اور ہزاروں چمکتے ہوئے اجرام آسمان پر اور ہزار ہا آرام اور راحت کی چیزیں زمین پر مہیا کرتا۔پس اُس فیاض مطلق کو محض ایک حج کی طرح فقط انصاف کرنے والا قرار دینا اور اس کے مالکانہ مرتبہ اور شان سے انکار کرنا کس قدر کفرانِ نعمت ہے۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۶ تا ۲۸) یادر ہے کہ مالک ایک ایسا لفظ ہے جس کے مقابل پر تمام حقوق مسلوب ہو جاتے ہیں۔اور کامل طور پر اطلاق اس لفظ کا صرف خدا پر ہی آتا ہے کیونکہ کامل مالک وہی ہے جو شخص کسی کو اپنی جان وغیرہ کا مالک ٹھہراتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ اپنی جان اور مال وغیرہ پر میرا کوئی حق نہیں اور میرا کچھ بھی نہیں سب مالک کا ہے اس صورت میں اپنے مالک کو یہ کہنا اس کے لئے ناجائز ہو جاتا ہے کہ فلاں مالی یا جانی معاملہ میں میرے ساتھ انصاف کر