اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 76

2Y جل شانہ و عزاسمہ چل ہی نہیں سکتا۔اور اگر کچھ دن چلے بھی تو چند ہی روز میں طرح طرح کے مفاسد پیدا ہو جاتے ہیں۔اور بجائے خیر کے شر کا موجب ہو جاتا ہے۔ان تمام وجوہ سے کتاب الہی کی حاجت ہوئی کیونکہ ساری نیک صفتیں اور ہر ایک طور کی کمالیت و خوبی صرف خدا ہی کی کتاب میں پائی جاتی ہے وبس۔دوم حکمت تفاوت مراتب رکھنے میں یہ ہے کہ تا نیک اور پاک لوگوں کی خوبی ظاہر ہو۔کیونکہ ہر ایک خوبی مقابلہ ہی سے معلوم ہوتی ہے۔جیسے فرمایا ہے إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا - الجزو نمبر ۱۵۔یعنی ہم نے ہر یک چیز کو جو زمین پر ہے زمین کی زینت بنادیا ہے۔تا جولوگ صالح آدمی ہیں بمقابلہ بڑے آدمیوں کے اُن کی صلاحیت آشکارا ہو جائے۔اور کثیف کے دیکھنے سے لطیف کی لطافت کھل جائے۔کیونکہ ضد کی حقیقت ضد ہی سے شناخت کی جاتی ہے اور نیکوں کا قدر و منزلت بدوں ہی سے معلوم ہوتا ہے۔سوم حکمت تفاوت مراتب رکھنے میں انواع و اقسام کی قدرتوں کا ظاہر کرنا۔اور اپنی عظمت کی طرف توجہ دلانا ہے۔جیسا فرما یا ما لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا - وَقَدْ خَلَقَكُمْ أطوارا۔لتا نمبر ۲۹۔یعنی تم کو کیا ہو گیا کہ تم خدا کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے۔حالانکہ اُس نے اپنی عظمت ظاہر کرنے کے لئے تم کو مختلف صورتوں اور سیرتوں پر پیدا کیا یعنی اختلاف استعدادات و طبائع اسی غرض سے حکیم مطلق نے کیا تا اُس کی عظمت و قدرت شناخت کی جائے۔جیسا دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔وَاللهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِّن مَّاءٍ فَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قدير لنا الجز نمبر ۱۸۔یعنی خدا نے ہر یک جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔سو بعض جاندار پیٹ پر چلتے ہیں اور بعض دو پانوں پر۔بعض چار الكهف : انوح: ۱۵،۱۴ ۳ النور ۴۶