اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 131

۱۳۱ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي (بشیر احمد، شریف احمد اور مبارکہ کی آمین مطبوعہ ۱۹۰۱ء ، در ثمین صفحه ۵۴ ، شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ ) حمد و شکر آن خدائے کردگار کز وجودش ہر وجودی آشکار این جهان آئینہ دار روئے او ذره ذره ره نماید سوئے او کرد و 1 ۲ در آئینه ارض سما ہر گیا ہے عارف بنگاه او آن رخ بے مثل خود جلوه نما دست ہر شانی نماید راه او " نور مهر و مه ز فیض پور اوست ہر ظہورے تابع منشور اوست ه ہر سرے سرے ز خلوت گاهِ اُو ہر قدم جوید در با جاه او مطلب ہر دل جمال روئے اوست گر ہی گر ہست بہر کوئے اوست کو مهر و ماه و انجم و خاک آفرید صد ہزاران کرد صنعت با پدید A و این همه صنعش کتاب کار اوست بے نہایت اندرین اسرار اوست لے اس خدائے کردگار کی حمد اور شکر واجب ہے جس کے وجود سے ہر چیز کا وجود ظاہر ہوا۔ ے یہ جہاں اس کے چہرے کے لئے آئینہ کی طرح ہے ذرہ ذرہ اسی کی طرف راستہ دکھاتا ہے۔ سے اس نے زمین و آسمان کے آئینہ میں اپنا بے مثل چہرہ دکھلا دیا۔ ے گھاس کا ہر پتہ اس کے کون و مکان کی معرفت رکھتا ہے اور درختوں کی ہر شاخ اسی کا راستہ دکھاتی ہے۔ ھے چاند اور سورج کی روشنی اس کے نور کا فیضان ہے ہر چیز کا ظہور اسی کے شاہی فرمان کے ماتحت ہوتا ہے۔ ہر سر اس کے اسرار خانہ کا ایک بھید ہے اور ہر قدم اسی کا با عظمت دروازہ تلاش کرتا ہے۔ کے اسی کے منہ کا جمال ہر ایک دل کا مقصود ہے اور کوئی گمراہ بھی ہے تو وہ بھی اسی کے کوچہ کی تلاش میں ہے۔ اس نے چاند سورج ستارے اور زمین کو پیدا کیا اور لاکھوں صنعتیں ظاہر کر دیں۔ اس کی یہ تمام صناعیاں اس کی کاریگری کا دفتر ہیں اور ان میں اس کے بے انتہا اسرار ہیں ۔