اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 130

۱۳۰ جل شانہ و عزاسمہ واحد ہے لاشریک ہے اور لازوال ہے سب موت کا شکار ہیں اُس کو فنا نہیں سب خیر ہے اسی میں کہ اس سے لگاؤ دل ڈھونڈو اُسی کو یارو! بُتوں میں وفا نہیں اس جائے پر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو دوزخ ہے یہ مقام یہ بستاں سرا نہیں ( تفخیذ الا ذبان ماہ دسمبر ۱۹۰۸ صفحه ۴۸۵- در ثمین صفحه ۱۵۲) دلبر سمایا تجھے سب زور و قدرت ہے خدایا تجھے پایا ہر اک مطلب کو پایا ہر اک عاشق نے ہے اک بت بنایا ہمارے دل میں وہی آرام جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں رَبُّ البرایا ہوا ظاہر وہ مجھ پر پالا یادی بالآیادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے وہی جنت وہی دارالاماں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے یہ کیا احساں ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي تری نعمت کی کچھ قلت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے شمار فضل اور رحمت نہیں ہے مجھے اب شکر کی طاقت نہیں ہے یہ کیا احساں ترے ہیں میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي ترے کوچہ میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا ، کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں