اللہ تعالیٰ — Page 132
۱۳۲ جل شانہ و عزاسمہ این کتابے پیش چشم ما نهاد تا از و راه بدی داریم یاد تا شناسی آن خدائے پاک را کو نماند خاکیان و خاک را تا شود معیار بهیر وحی دوست تا شناسی از هزاران آنچه زوست تا خیانت را نماند هیچ راه تا جدا گردد سفیدی از سیاه بس ہماں شد آنچه آن دادار خواست کار دستش شاید گفتار خاست مشرکان وانچه پوزش می کنند این گواہان تیر دوزش مے کنند گر بگوئی غیر را رحمان خدا تف زند بر روئے تو ارض و سما در تراشی بهر آن یکتا پسر تو بر بارد لعنت زیر و زبر کو 스 با زبان حال گوید این جهان کال خدا فردست و قیوم و یگان نے پدر دارد نه فرزند و نه زن نے مبدل شد ز ایام یک دمے گر رشح فیضش کم شود این همه علق و جهان برہم شود اله یک نظر قانونِ قدرت را ببین تا شناسی شان رب العالمین (ضیاء الحق۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۵۲،۲۵۱) لے یہ نیچر کی کتاب اس نے ہماری آنکھوں کے سامنے رکھ دی تا کہ اس کی وجہ سے ہم ہدایت کاراستہ یا درکھیں۔ے تا کہ تو اس خدائے پاک کو پہچانے جود نیا والوں اور دنیا سے کوئی مشابہت نہیں رکھتا۔سے تا کہ خدا کی وحی کے لئے یہ بطور معیار کے ہوتا کہ تو ہزاروں کلاموں میں سے پہچان لے کہ کونسا اس کی طرف سے ہے۔ہے تا کہ خیانت کا کوئی راستہ کھلا نہ رہے اور نور تاریکی سے الگ ہو جائے۔۵ بس وہی ہوا جو اس خدا کا منشا تھا اور اس کا کام اس کے کلام کا گواہ قرار پایا۔مشرک لوگ جو بہانے کرتے ہیں یہ گواہ ( قول خدا اور فعل خدا ) ان عذرات کو تیروں سے چھلنی کر دیتے ہیں۔کے اگر تو کسی اور کو خدائے رحمان کر دے تو تیرے منہ پر زمین و آسمان تھوکیں۔اور اگر اس یکتا کے لیے تو کوئی بیٹا تجویز کرے تو نیچے اور اوپر سے تجھ پر لعنتیں برسنے لگیں۔2 یہ جہان زبانِ حال سے یہ کہ رہا ہے کہ وہ خدا یکتا قیوم اور واحد ہے۔ا نہ اس کا کوئی باپ ہے نہ بیٹا اور نہ بیوی اور نہ ازل سے اس میں کوئی تغیر آیا۔الے اگر ایک لحظہ کے لیے بھی اس کے فیض کی بارش کم ہو جائے تو یہ سب مخلوقات اور جہان درہم برہم ہو جائیں۔۱۲ قانونِ قدرت پر ایک نظر ڈال تا کہ تو رب العالمین کی شان کو پہچانے۔