اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 129

۱۲۹ جل شانہ و عزاسمہ جو کچھ ہمیں ہے راحت سب اُس کی جود و منت اُس سے ہے دل کی بیعت دل میں ہے اس کی عظمت بہتر ہے اس کی طاعت طاعت میں ہے سعادت روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا اُس بن نہیں گزارا غیر اس کے جھوٹ سارا روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي یارب ہے تیرا احساں میں تیرے در پہ قرباں تو نے دیا ہے ایمان تو ہر زماں نگہباں تیرا کرم ہے ہر آں تو ہے رحیم رحماں یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي کیونکر ہو شکر تیرا، تیرا ہے جو ہے میرا تو نے ہر اک کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي ( محمود کی آمین۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۲۰،۳۱۹) جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر برس تھے آٹھے اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اُسے بلایا بلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پر اے دل تو جاں فدا کر لوح مزار مرزا مبارک احمد صاحب - در ثمین اردو صفحه ۱۰۰ شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ) وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو جو کچھ بیٹوں میں پاتے ہو اُس میں وہ کیا نہیں سورج پر غور کر کے نہ پائی وہ روشنی جب چاند کو بھی دیکھا تو اس یار سا نہیں