اللہ تعالیٰ — Page 128
۱۲۸ جل شانہ و عزاسمہ چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ور نہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑ اغم اغیار کا تیرے ملنے کے لئے ہم مل گئے ہیں خاک میں تا مگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جان گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه (۵۲) جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا شکر اللہ مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۹) حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہم سر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یارجانی دل میں میرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اس کی عظمت لرزاں ہیں اہل قربت کروبیوں پہ ہیبت ہے عام اس کی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہیں اُس کی صنعت اُس سے کرو محبت غیروں سے کرنا اُلفت کب چاہے اُس کی غیرت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي