اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 127

۱۲۷ جل شانہ و عزاسمہ کیا فیض پہنچا سکتا ہے جو مردہ خدا ہے۔(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۰ ۲ صفحہ ۳۵۳) پہنچاسکتا جس بات کی طرف وہ بلاتے ہیں وہ نہایت ذلیل خیال اور قابل شرم عقیدہ ہے۔کیا یہ بات عند العقل قبول کرنے کے لائق ہے کہ ایک عاجز مخلوق جو تمام لوازم انسانیت کے اپنے اندر رکھتا ہے خدا کہلاوے؟ کیا عقل اس بات کو مان سکتی ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو کوڑے مارے اور خدا کے بندے اپنے قادر خدا کے منہ پر تھوکیں اور اُس کو پکڑیں اور اُس کو سولی دیں اور وہ خدا ہو کر اُن کے مقابلہ سے عاجز ہو؟ کیا یہ بات کسی کو سمجھ آ سکتی ہے کہ ایک شخص خدا کہلا کر تمام رات دُعا کرے اور پھر اُس کی دعا قبول نہ ہو؟ کیا کوئی دل اس بات پر اطمینان پکڑ سکتا ہے کہ خدا بھی عاجز بچوں کی طرح نو مہینے تک پیٹ میں رہے۔اور خون حیض کھاوے اور آخر چیختا ہوا عورتوں کی شرمگاہ سے پیدا ہو؟ کیا کوئی عظمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ خدا بے شمار اور بے ابتدا زمانہ کے بعد مجسم ہو جائے۔اور ایک ٹکڑا اس کا انسان کی صورت بنے اور دوسرا کبوتر کی اور یہ جسم ہمیشہ کے لئے اُن کے گلے کا ہار ہو (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۷،۸۶) رکس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا اُس بہار محسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تا تار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی راہ ہے ترے دیدار کا چشمہ خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا تو نے خودروحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک اُس سے ہے شور محبت عاشقانِ زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھیں ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا خوب رویوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اس تری گلزار کا جائے۔