اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 126

۱۲۶ جل شانہ و عزاسمہ تھی اور کوئی ایسی بات اس میں نہیں تھی کہ دوسروں میں نہ پائی جائے۔عیسائیوں کو اقرار ہے کہ وہ مر بھی گیا۔پس کیسا بد قسمت وہ فرقہ ہے جس کا خدا مر جائے۔یہ کہنا کہ پھر وہ زندہ ہو گیا تھا کوئی تسلی کی بات نہیں۔جس نے مرکز ثابت کر دیا کہ وہ مر بھی سکتا ہے اُس کی زندگی کا کیا اعتبار ؟ (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۷۸ ۳ تا ۳۸۲) ایسا خدا کس کام کا جو ایک انسان کی طرح جو بڑھا ہو کر بعض قومی اُس کے بیکار ہو جاتے ہیں۔امتداد زمانہ کی وجہ سے بعض قومی اُس کے بھی بیکار ہو گئے۔اور نیز ایسا خدا کس کام کا کہ جب تک ٹکٹکی سے باندھ کر اُس کو کوڑے نہ لگیں اور اس کے منہ پر نہ تھو کا جائے اور چند روز اُس کو حوالات میں نہ رکھا جائے اور آخر اُس کو صلیب پر نہ کھینچا جائے تب تک وہ اپنے بندوں کے گناہ نہیں بخش سکتا۔ہم تو ایسے خدا سے سخت بیزار ہیں جس پر ایک ذلیل قوم یہودیوں کی جو اپنی حکومت بھی کھو بیٹھی تھی غالب آ گئی۔ہم اس خدا کوسچا خدا جانتے ہیں جس نے ایک مکہ کے غریب بے کس کو اپنا نبی بنا کر اپنی قدرت اور غلبہ کا جلوہ اُسی زمانہ میں تمام جہان کو دکھا دیا۔یہاں تک کہ جب شاہ ایران نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے اپنے سپاہی بھیجے تو اُس قادر خدا نے اپنے رسول کو فرمایا کہ سپاہیوں کو کہہ دے کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو قتل کر دیا ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ ایک طرف ایک شخص خدائی کا دعویٰ کرتا ہے اور اخیر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گورنمنٹ رومی کا ایک سپاہی اس کو گرفتار کر کے ایک دو گھنٹہ میں جیل خانہ میں ڈال دیتا ہے اور تمام رات کی دُعا ئیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔اور دوسری طرف وہ مرد ہے کہ صرف رسالت کا دعویٰ کرتا ہے اور خدا اس کے مقابلہ پر بادشاہوں کو ہلاک کرتا ہے۔یہ مقولہ طالب حق کے لئے نہایت نافع ہے کہ یار غالب شوکہ تا غالب شوی“ ہم ایسے مذہب کو کیا کریں جو مُردہ مذہب ہے۔ہم ایسی کتاب سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو مُردہ کتاب ہے۔اور ہمیں ایسا خدا تو زبر دست کا ساتھی بن تا تو بھی غالب بن جائے۔