اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 124

المولد اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ اقنوم کے لئے تین علیحدہ علیحدہ جسم مقرر ہو گئے ۔ باپ کی وہ شکل ہے جو آدم کی کیونکہ اس نے آدم کو اپنی شکل پر بنایا دیکھو توریت پیدائش بابا آیت ۲۷ ۔ اور بیٹا یسوع کی شکل پر مجسم ہوا دیکھو یوحنا باب ۱ آیت ا ، اور روح القدس کبوتر کی شکل پر متشکل ہوا۔ دیکھومتی باب ۳ آیت ۶ یہ تینوں مجسم خدا عیسائیوں کے زعم میں ہمیشہ کے لئے مجسم اور ہمیشہ کے لئے علیحدہ علیحدہ وجود رکھتے ہیں ۔ اور ؟ ۔ اور پھر بھی یہ تینوں مل کر ایک خدا ہے لیکن اگر کوئی بتلا سکتا ہے تو ہمیں بتلاوے کہ باوجود اس دائمی جسم اور تغیر کے یہ تینوں ایک کیونکر ہیں۔ بھلا ہمیں کوئی ڈاکٹر مارٹن کلارک اور پادری عمادالدین اور پادری ٹھاکر داس کو باوجود ان کے علیحدہ علیحدہ جسم کے ایک کر کے تو دکھلاوے ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ اگر تینوں کو کوٹ کر بھی بعض کا گوشت بعض کے ساتھ ملا دیا جاوے پھر بھی جن کو خدا نے تین بنا یا تھا ہرگز ایک نہیں ہو سکیں گے۔ پھر جبکہ اس فانی جسم کے حیوان با وجود امکان تحلیل اور تفرق جسم کے ایک نہیں ہو سکتے پھر ایسے تین مجسم جن میں بموجب عقیدہ عیسائیاں تحلیل اور تفریق جائز نہیں کیونکر ایک ہو سکتے ہیں؟ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ عیسائیوں کے یہ تین خدا بطور تین ممبر کمیٹی کے ہیں اور بزعم ان کے تینوں کی اتفاق رائے سے ہر ایک حکم نافذ ہوتا ہے یا کثرت رائے پر فیصلہ ہو جاتا ہے۔ گویا خدا کا کارخانہ بھی جمہوری سلطنت ہے اور گویا اُن کے گاڈ صاحب کو بھی شخصی سلطنت کی لیاقت نہیں ۔ تمام مدار کونسل پر ہے۔ غرض عیسائیوں کا یہ مرکب خدا ہے جس نے دیکھنا ہو دیکھ لے۔ انجام آتھم ۔ روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۳۴ تا ۳۶) عیسائی مذہب توحید سے تہی دست اور محروم ہے بلکہ ان لوگوں نے سچے خدا سے منہ پھیر کر ایک نیا خدا اپنے لئے بنایا ہے جو ایک اسرائیلی عورت کا بیٹا ہے مگر کیا یہ نیا خدا ان کا قادر ہے۔ جیسا کہ اصلی خدا قادر ہے؟ اس بات کے فیصلہ کے لئے خود اس کی سرگذشت گواہ ہے کیونکہ اگر وہ قادر ہوتا تو یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں نہ کھاتا۔ رومی سلطنت کی حوالات