اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 123

۱۲۳ جل شانہ و عزاسمہ سے اٹھا دیا جاوے اور اس کی نفی کی جاوے۔بسا اوقات انسان کے زیر نظرا اپنی خوبی اور طاقت بھی ہوتی ہے کہ فلاں نیکی میں نے اپنی طاقت سے کی ہے۔انسان اپنی طاقت پر ایسا بھروسہ کرتا ہے کہ ہر کام کو اپنی ہی قوت سے منسوب کرتا ہے۔انسان موحد تب ہوتا ہے کہ جب اپنی طاقتوں کی بھی نفی کر دے۔الحکم مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۶،۵ - ملفوظات جلد دوم صفحه ۵۶ تا ۱۵۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) عیسائی صاحبوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جو لوگ تثلیث کا عقیدہ اور یسوع کا کفارہ نہیں مانتے وہ ہمیشہ کے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔غیر محدود خدا کو تین اقنوم میں یا چار اقنوم میں محدود کرنا اور پھر ہر ایک اقنوم کو کامل بھی سمجھنا اور ترکیب کا محتاج بھی اور پھر خدا پر یہ روا رکھنا کہ وہ ابتدا میں کلمہ تھا۔پھر وہی کلمہ جو خدا تھا مریم کے پیٹ میں پڑا اور اس کے خون سے مجسم ہوا اور معمولی راہ سے پیدا ہوا اور سارے دکھ خسرہ چیچک دانتوں کی تکلیف جو انسان کو ہوتی ہیں سب اٹھائے۔آخر کو جوان ہو کر پکڑا گیا اور صلیب پر چڑھایا گیا۔یہ نهایت گندہ شرک ہے جس میں انسان کو خدا ٹھہرایا گیا ہے خدا اس سے پاک ہے کہ وہ کسی کے پیٹ میں پڑے اور مجسم ہو اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہو۔انسانی فطرت اس کو قبول نہیں کر سکتی کہ خدا پر ایسے دُکھ کی مار اور یہ مصیبتیں پڑیں اور وہ جو تمام عظمتوں کا مالک اور تمام عزتوں کا سرچشمہ ہے اپنے لئے یہ تمام ذلتیں روا رکھے۔عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ خدا کی اس رسوائی کا یہ پہلا ہی موقعہ ہے اور اس سے پہلے اس قسم کی ذلتیں خدا نے کبھی نہیں اٹھا ئیں۔کبھی یہ امر وقوع میں نہیں آیا کہ خدا بھی انسان کی طرح کسی عورت کے رحم میں نطفہ میں مخلوط ہو کر قرار پکڑ گیا ہو۔جب سے کہ لوگوں نے خدا کا نام سنا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ بھی انسان کی طرح کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔یہ تمام وہ باتیں ہیں جن کا عیسائیوں کو خود اقرار ہے اور اس بات کا بھی اقرار ہے کہ گو پہلے یہ تین اقنوم تین جسم علیحدہ علیحدہ نہیں رکھتے تھے مگر اب اس خاص زمانہ سے جس کو اب ۱۸۹۶ برس جاتا ہے تینوں