اللہ تعالیٰ — Page 125
۱۲۵ جل شانہ و عزاسمہ میں نہ دیا جاتا اور صلیب پر کھینچا نہ جاتا۔اور جب یہودیوں نے کہا تھا کہ صلیب پر سے خود بخو دا تر آ ہم ابھی ایمان لے آئیں گے۔اُس وقت اُتر آتا لیکن اس نے کسی موقعہ پر اپنی قدرت نہیں دکھلائی۔رہے اُس کے معجزات سو واضح ہو کہ اُس کے معجزات دوسرے اکثر نبیوں کی نسبت بہت ہی کم ہیں مثلاً اگر کوئی عیسائی ایلیا نبی کے معجزات سے جو بائیبل میں مفصل مذکور ہیں جن میں سے مُردوں کا زندہ کرنا بھی ہے مسیح ابن مریم کے معجزات کا مقابلہ کرے تو اس کو ضرور اقرار کرنا پڑے گا کہ ایلیا نبی کے معجزات شان اور شوکت اور کثرت میں مسیح ابن مریم کے معجزات سے بہت بڑھ کر ہیں۔ہاں انجیلوں میں بار بار اس معجزہ کا ذکر ہے کہ یسوع مسیح مصر وعوں یعنی مرگی زدہ لوگوں میں سے جن نکالا کرتا تھا اور یہ بڑا معجزہ اس کا شمار کیا گیا ہے جو محققین کے نزدیک ایک ہنسی کی جگہ ہے۔آج کل کی تحقیقات سے ثابت ہے کہ مرض صرع ضعف دماغ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے یا بعض اوقات کوئی رسولی دماغ میں پیدا ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ کسی اور مرض کا یہ عرض ہوتی ہے لیکن ان تمام محققین نے کہیں نہیں لکھا کہ اس مرض کا سبب جن بھی ہوا کرتے ہیں۔۔۔مسیح کے کسی معجزہ یا طر ز ولادت میں کوئی ایسا عجوبہ نہیں کہ وہ اس کی خدائی پر دلالت کرے۔اسی امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مسیح کی ولادت کے ذکر کے ساتھ بیٹی کی ولادت کا ذکر کر دیا تا معلوم ہو کہ جیسا کہ یحیی کی خارق عادت ولادت ان کو انسان ہونے سے باہر نہیں لے جاتی۔ایسا ہی مسیح ابن مریم کی ولادت اس کو خدا نہیں بناتی ہ ہرگز کسی بات پر قادر نہیں تھا۔صرف ایک عاجز انسان تھا۔اور انسانی ضعف اور لاعلمی اپنے اندر رکھتا تھا۔اور انجیل سے ظاہر ہے کہ اس کو غیب کا علم ہرگز نہیں تھا کیونکہ وہ ایک انجیر کے درخت کی طرف پھل کھانے گیا۔اور اُس کو معلوم نہ ہوا کہ اُس پر کوئی پھل نہیں ہے اور وہ خود اقرار کرتا ہے کہ قیامت کی خبر مجھے معلوم نہیں۔پس اگر وہ خدا ہوتا تو ضرور قیامت کا علم اوس کو ہونا چاہئے تھا۔اسی طرح کوئی صفت الوہیت اوس میں موجود نہیں