اللہ تعالیٰ — Page 119
119 جل شانہ و عزاسمہ نہیں اور نہ عیسائی جی اُٹھے بلکہ مردہ اور سب مردوں سے اول درجہ پر اور تنگ و تاریک قبروں میں پڑے ہوئے اور شرک کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں۔نہ ایمانی رُوح اُن میں ہے نہ ایمانی رُوح کی برکت۔بلکہ ادنیٰ سے ادنی درجہ توحید کا جو مخلوق پرستی سے پر ہیز کرنا ہے وہ بھی اُن کو نصیب نہیں ہوا اور ایک اپنے جیسے عاجز اور نا تو ان کو خالق سمجھ کر اس کی پرستش کر رہے ہیں۔یادر ہے کہ توحید کے تین درجے ہیں۔سب سے ادنی درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کی پرستش نہ کریں۔نہ پتھر کی۔نہ آگ کی۔نہ آدمی کی۔نہ کسی ستارہ کی۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پر بھی ایسے نہ گریں کہ گویا ایک قسم کا اُن کو ربوبیت کے کارخانہ میں مستقل دخیل قرار دیں۔بلکہ ہمیشہ مسبب پر نظر رہے نہ اسباب پر۔تیسرا (۳) درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلیات الہیہ کا کامل مشاہدہ کر کے ہر یک غیر کے وجود کو کالعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی۔غرض ہر یک چیز نظر میں فانی دکھائی دے بجز کی ذات کامل الصفات کے۔یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتب ثلاثہ توحید کے حاصل ہو جا ئیں۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ روحانی زندگی کے تمام جاودانی چشمے محض حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل دنیا میں آئے ہیں۔یہی اُمت ہے کہ اگر چہ نبی تو نہیں مگر نبیوں کی مانند خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہو جاتی ہے۔اور اگر چہ رسول نہیں مگر رسولوں کی مانند خدا تعالیٰ کے روشن نشان اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور روحانی زندگی کے دریا اس میں بہتے ہیں اور کوئی نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔کوئی ہے کہ جو برکات اور نشانوں کے دکھلانے کے لئے مقابل میں کھڑا ہو کر ہمارے اس دعوی کا جواب دے!!! ( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۲۳ - ۲۲۴) افسوس ہے کہ مجھے وہ لفظ نہیں ملے جس میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کرسکوں۔لوگوں کے پاس جا کر منت خوشامد کرتے ہیں۔یہ بات خدا تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے پس وہ اس سے ہٹتا اور اسے دُور