اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 120

۱۲۰ جل شانہ و عزاسمہ پھینک دیتا ہے میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں۔گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے مگر سمجھ میں خوب آ سکتا ہے کہ جیسے ایک مرد غیور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بسا اوقات ایسی وارد تیں ہو جاتی ہیں ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کا ہے۔عبودیت اور دعا خاص اُسی ذات کے مد مقابل ہیں۔وہ پسند نہیں کر سکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکارا جاوے۔پس خوب یاد رکھو! اور پھر یا درکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے نماز اور تو حید کچھ ہی کہو کیونکہ تو حید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے، اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو!!! الحکم مورخه ۱۲ ۱٫ پریل ۱۸۹۹ء صفحہ ۶ - ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۰۶، ۱۰۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) شرک کی کئی قسم ہیں ایک تو وہ موٹا اور صریح شرک ہے جس میں ہندو عیسائی یہود اور دوسرے بت پرست لوگ گرفتار ہیں۔جس میں کسی انسان یا پتھر یا اور بے جان چیزوں یا قوتوں یا خیالی دیویوں اور دیوتاؤں کو خدا بنالیا گیا ہے۔اگر چہ یہ شرک ابھی تک دنیا میں موجود ہے لیکن یہ زمانہ روشنی اور تعلیم کا کچھ ایسا زمانہ ہے کہ عقلیں اس قسم کے شرک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئی ہیں۔یہ جدا امر ہے کہ وہ قومی مذہب کی حیثیت سے بظاہر ان بے ہودگیوں کا اقرار کریں لیکن دراصل بالطبع لوگ ان سے متنفر ہوتے جاتے ہیں۔مگر ایک اور قسم کا شرک ہے جو مخفی طور پر زہر کی طرح اثر کر رہا ہے اور وہ اس زمانہ میں بہت بڑھتا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد بالکل نہیں رہا۔ہم یہ ہرگز نہیں کہتے اور نہ ہمارا یہ مذہب ہے کہ اسباب کی رعایت بالکل نہ کی جاوے کیونکہ خدا تعالیٰ نے رعایت اسباب کی ترغیب دی ہے اور اس حد تک جہاں تک یہ رعایت ضروری ہے۔اگر رعایت اسباب نہ کی جاوے تو انسانی قوتوں کی بے حرمتی کرنا اور