اللہ تعالیٰ — Page 118
۱۱۸ جل شانہ و عزاسمہ یادر ہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بُت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔کوئی رازق نہ ماننا۔کوئی معزز اور مذلّ خیال نہ کرنا۔کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اُسی سے خاص کرنا۔اپنی عبادت اُسی سے خاص کرنا۔اپنا تذلل اُسی سے خاص کرنا۔اپنی اُمیدیں اُسی سے خاص کرنا۔اپنا خوف اُسی سے خاص کرنا۔پس کوئی تو حید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی۔اوّل ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو ہالکتہ الذات اور باطلۃ الحقیقت خیال کرنا۔دوم صفات کے لحاظ سے توحید۔یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذاتِ باری کسی میں قرار نہ دینا اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض رساں نظر آتے ہیں یہ اُسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے تو حید۔یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گردانا اور اُسی میں کھوئے جانا۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۵۰،۳۴۹) آج کل توحید اور ہستی الہی پر بہت زور آور حملے ہورہے ہیں۔عیسائیوں نے بھی بہت کچھ زور مارا اور لکھا ہے۔لیکن جو کچھ کہا اور لکھا وہ اسلام کے خدا کی بابت ہی لکھا ہے نہ کہ ایک مردہ مصلوب اور عاجز خدا کی بابت۔ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جو شخص کی ہستی اور وجود پر قلم اٹھائے گا اس کو آخر کا ر اُسی خدا کی طرف آنا پڑے گا جو اسلام نے پیش کیا ہے۔کیونکہ صحیفہ فطرت کے ایک ایک پتے میں اس کا پتہ ملتا ہے۔اور بالطبع انسان اُسی خدا کا نقش اپنے اندر رکھتا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۵۲ایڈیشن ۲۰۰۳ء) حضرات عیسائی خوب یاد رکھیں کہ مسیح علیہ السلام کا نمونہ قیامت ہونا سرمو ثابت