اللہ تعالیٰ — Page 110
11 + جل شانہ و عزاسمہ بادشاہت میں ہے۔اور جیسا کہ آسمان پر ایک عظیم الشان تجلی ہے زمین پر بھی ایک عظیم الشان حجتی ہے بلکہ آسمان کی تجلی تو ایک ایمانی امر ہے۔عام انسان نہ آسمان پر گئے نہ اوس کا مشاہدہ کیا مگر زمین پر جو خدا کی بادشاہت کی تجلتی ہے وہ تو صریح ہر ایک شخص کو آنکھوں سے نظر آ رہی ہے۔ہر ایک انسان خواہ کیسا ہی دولت مند ہوا اپنی خواہش کے مخالف موت کا پیالہ پیتا ہے۔پس دیکھو اس شاہ حقیقی کے حکم کی کیسی زمین پر تجلی ہے کہ جب حکم آ جاتا ہے تو کوئی اپنی موت کو ایک سیکنڈ بھی روک نہیں سکتا۔ہر ایک خبیث اور نا قابل علاج مرض جب دامن گیر ہوتی ہے تو کوئی طبیب ڈاکٹر اس کو دُور نہیں کر سکتا۔پس غور کرو یہ کیسی خدا کی بادشاہت کی زمین پر تجلتی ہے جو اس کے حکم رد نہیں ہو سکتے۔پھر کیونکر کہا جائے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں بلکہ آئندہ کسی زمانہ میں آئے گی۔دیکھو اسی زمانہ میں خدا کے آسمانی حکم نے طاعون کے ساتھ زمین کو ہلا دیا تا اس کے مسیح موعود کے لئے ایک نشان ہو پس کون ہے جو اس کی مرضی کے سوا اس کو دور کر سکے پس کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔ہاں ایک بدکار قیدیوں کی طرح اس کی زمین میں زندگی بسر کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کبھی نہ مرے لیکن خدا کی سچی بادشاہت اس کو ہلاک کر دیتی ہے اور وہ آخر پنجہ ملک الموت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں۔دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑ ہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑہا اوس کے ارادہ سے پیدا ہو جاتے ہیں اور کروڑہا اُس کی مرضی سے فقیر سے امیر اور امیر سے فقیر ہو جاتے ہیں پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔آسمانوں پر تو صرف فرشتے رہتے ہیں مگر زمین پر آدمی بھی ہیں اور فرشتے بھی جو خدا کے کارکن ہیں اور اس کی سلطنت کے خادم ہیں جو انسانوں کے مختلف کاموں کے محافظ چھوڑے گئے ہیں اور وہ ہر وقت خدا کی اطاعت کرتے ہیں اور اپنی رپورٹیں بھیجتے رہتے ہیں۔پس کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں بلکہ خدا سب سے زیادہ