اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 111

جل شانہ و عزاسمہ اپنی زمینی بادشاہت سے پہچانا گیا ہے کیونکہ ہر ایک شخص خیال کرتا ہے کہ آسمان کا راز مخفی اور غیر مشہود ہے۔بلکہ حال کے زمانہ میں قریباً تمام عیسائی اور ان کے فلاسفر آسمانوں کے وجود کے ہی قائل نہیں جن پر خدا کی بادشاہت کا انجیلوں میں سارا مدار رکھا گیا ہے مگر زمین تو فی الواقع ایک کرہ ہمارے پاؤں کے نیچے ہے۔اور ہزار ہا قضا وقدر کے امور اس پر ظاہر ہو رہے ہیں جو خود سمجھ آتا ہے کہ یہ سب کچھ تغیر و تبدل اور حدوث اور فن کسی خاص مالک کے حکم سے ہو رہا ہے پھر کیونکر کہا جائے کہ زمین پر ابھی خدا کی بادشاہت نہیں۔۔۔ہمارے خدا عزوجل نے سورۃ فاتحہ میں نہ آسمان کا نام لیا نہ زمین کا۔اور یہ کہہ کر حقیقت سے ہمیں خبر دے دی کہ وہ رب العالمین ہے یعنی جہاں تک آبادیاں ہیں اور جہاں تک کسی قسم کی مخلوق کا وجود موجود ہے۔خواہ اجسام خواہ ارواح ان سب کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا خدا ہے جو ہر وقت ان کی پرورش کرتا ہے اور ان کے مناسب حال ان کا انتظام کر رہا ہے۔اور تمام عالموں پر ہر وقت ہر دم اس کا سلسلہ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور جزا سزا کا جاری ہے۔اور یادر ہے کہ سورۃ فاتحہ میں فقرہ مالک یوم الدین سےصرف یہ مراد نہیں ہے کہ قیامت کو جزا سزا ہوگی بلکہ قرآن شریف میں بار بار اور صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ قیامت تو مجازات گبری کا وقت ہے۔مگر ایک قسم کی مجازات اسی دنیا میں شروع ہے جس کی طرف آیت يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا اشارہ کرتی ہے۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۲ تا ۴۲) واضح ہو کہ قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے خدا جیسا کہ آسمان پر ہے زمین پر بھی۔ہے جیسا کہ اوس نے فرما یا هُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ الهُ وَ فِي الْأَرْضِ الهُ - لا یعنی زمین میں وہی خدا ہے اور وہی آسمان میں خدا۔اور فرمایا کہ کسی پوشیدہ مشورہ میں تین آدمی نہیں ہوتے جن کے ساتھ چوتھا خدا نہیں ہوتا اور فرمایا کہ وہ غیر محدود ہے جیسا کہ اس آیت میں لکھا الانفال:۳۰ تا الزخرف : ۸۵