اللہ تعالیٰ — Page 109
1+9 جل شانہ و عزاسمہ پرورش کر رہا ہے۔بغیر عوض اعمال کے رحمت کرتا ہے اور نیز بعوض اعمال رحمت کرتا ہے۔جز اسز ا وقت مقررہ پر دیتا ہے۔اُسی کی ہم عبادت کرتے ہیں اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ہمیں تمام نعمتوں کی راہیں دکھلا اور غضب کی راہوں اور ضلالت کی راہوں سے دُور رکھ۔یہ دُعا جو سورۃ فاتحہ میں ہے انجیل کی دُعا سے بالکل نقیض ہے کیونکہ انجیل میں زمین پر خدا کی موجودہ بادشاہت ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔پس انجیل کے رو سے نہ زمین پر خدا کی ربوبیت کچھ کام کر رہی ہے نہ رحمانیت نہ رحیمیت نہ قدرت جزا سزا کیونکہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں آئی۔مگر سورۃ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت موجود ہے۔اسی لئے سورۃ فاتحہ میں تمام لوازم بادشاہت کے بیان کئے گئے ہیں۔ظاہر ہے کہ بادشاہ میں یہ صفات ہونی چاہئیں کہ وہ لوگوں کی پرورش پر قدرت رکھتا ہو۔سوسورۃ فاتحہ میں رب العالمین کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا گیا ہے۔پھر دوسری صفت بادشاہ کی یہ چاہئے کہ جو کچھ اس کی رعایا کو اپنی آبادی کے لئے ضروری سامان کی حاجت ہے وہ بغیر عوض ان کی خدمات کے خود رحم خسروانہ سے بجالا وےسوالرحمن کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کر دیا ہے۔تیسری صفت بادشاہ میں یہ چاہئے کہ جن کاموں کو اپنی کوشش سے رعایا انجام تک نہ پہنچا سکے ان کے انجام کے لئے مناسب طور پر مدد دے۔سو الرحیم کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا ہے۔چوتھی صفت بادشاہ میں یہ چاہئے کہ جزا وسزا پر قادر ہوتا سیاست مدنی کے کام میں خلل نہ پڑے۔سو مالک یوم الدین کے لفظ سے اس صفت کو ظاہر کر دیا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ سورۃ موصوفہ بالا نے تمام وہ لوازم بادشاہت پیش کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت اور بادشاہی تصرفات موجود ہیں۔سنو اور سمجھو کہ بڑی معرفت یہی ہے کہ زمین کا ذرہ ذرہ بھی ایسا ہی خدا کے قبضہ اقتدار میں ہے جیسا کہ آسمان کا ذرہ ذرہ خدا کی