اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 104

۱۰۴ جل شانہ و عزاسمہ انجیل کہتی ہے کہ زمین خدا کی تقدیس سے خالی ہے۔اس کا سبب اس انجیلی دُعا کے اگلے فقرہ میں بطور اشارہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ابھی اس میں خدا کی بادشاہت نہیں آئی۔اس لئے حکومت نہ ہونے کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے خدا کی مرضی ایسے طور سے زمین پر نافذ نہیں ہو سکی جیسا کہ آسمان پر نافذ ہے مگر قرآن کی تعلیم سراسر اس کے برخلاف ہے وہ تو صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ کوئی چور، خونی ، زانی، کافر، فاسق ، سرکش، جرائم پیشہ کسی قسم کی بدی زمین پر نہیں کر سکتا جب تک کہ آسمان پر سے اس کو اختیار نہ دیا جائے۔پس کیونکر کہا جائے کہ آسمانی بادشاہت زمین پر نہیں۔کیا کوئی مخالف قبضہ زمین پر خدا کے احکام کے جاری ہونے سے مزاحم ہے۔سبحان اللہ! ایسا ہر گز نہیں بلکہ خدا نے خود آسمان پر فرشتوں کے لئے جدا قانون بنایا اور زمین پر انسانوں کے لئے جدا اور خدا نے اپنی آسمانی بادشاہت میں فرشتوں کو کوئی اختیار نہیں دیا بلکہ اون کی فطرت میں ہی اطاعت کا مادہ رکھ دیا ہے وہ مخالفت کر ہی نہیں سکتے اور سہو اور نسیان ان پر وارد نہیں ہوسکتا لیکن انسانی فطرت کو قبول، عدم قبول کا اختیار دیا گیا ہے اور چونکہ یہ اختیار اوپر سے دیا گیا ہے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ فاسق انسان کے وجود سے خدا کی بادشاہت زمین سے جاتی رہی بلکہ ہر رنگ میں خدا کی ہی بادشاہت ہے۔ہاں صرف قانون دو ہیں ایک آسمانی فرشتوں کے لئے قضا و قدر کا قانون ہے کہ وہ بدی کر ہی نہیں سکتے اور ایک زمین پر انسانوں کے لئے خدا کے قضا و قدر کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ آسمان سے اون کو بدی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے مگر جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کریں تو روح القدس کی تائید سے ان کی کمزوری دور ہو سکتی ہے اور وہ گناہ کے ارتکاب سے بچ سکتے ہیں جیسا کہ خدا کے نبی اور رسول بچتے ہیں اور اگر ایسے لوگ ہیں کہ گنہ گار ہو چکے ہیں تو استغفار ان کو یہ فائدہ پہنچاتا ہے کہ گناہ کے نتائج سے یعنی عذاب سے بچائے جاتے ہیں کیونکہ نور کے آنے سے ظلمت باقی نہیں رہ سکتی۔اور جرائم پیشہ جو استغفار نہیں کرتے یعنی خدا سے طاقت نہیں مانگتے وہ اپنے جرائم کی سزا پاتے رہتے ہیں۔