اللہ تعالیٰ — Page 105
۱۰۵ جل شانہ و عزاسمہ دیکھو آج کل طاعون بھی بطور سزا کے زمین پر اتری ہے اور خدا کے سرکش اوس سے ہلاک ہوتے جاتے ہیں پھر کیونکر کہا جائے کہ خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں یہ خیال مت کرو کہ اگر زمین پر خدا کی بادشاہت ہے تو پھر لوگوں سے جرائم کیوں ظہور میں آتے ہیں کیونکہ جرائم بھی خدا کے قانون قضاء وقد ر کے نیچے ہیں سو اگر چہ وہ لوگ قانون شریعت سے باہر ہو جاتے ہیں مگر قانون تکوین یعنی قضاء و قدر سے وہ باہر نہیں ہو سکتے۔پس کیونکر کہا جائے کہ جرائم پیشہ لوگ الہی سلطنت کا جوا اپنی گردن پر نہیں رکھتے۔۔۔اگر خدا کا قانون ابھی سخت ہو جائے اور ہر یک زنا کرنے والے پر بجلی پڑے اور ہر یک چورکو یہ بیماری پیدا ہو کہ ہاتھ گل سڑ کر گر جائیں اور ہر یک سرکش خدا کا منکر اس کے دین کا منکر طاعون سے مرے تو ایک ہفتہ گذرنے سے پہلے ہی تمام دنیا راستبازی اور نیک بختی کی چادر پہن سکتی ہے۔پس خدا کی زمین پر بادشاہت تو ہے لیکن آسمانی قانون کی نرمی نے اس قدر آزادی دے رکھی ہے کہ جرائم پیشہ جلدی نہیں پکڑے جاتے ہاں سزائیں بھی ملتی رہتی ہیں۔زلزلے آتے ہیں۔بجلیاں پڑتی ہیں۔کوہ آتش فشاں آتش بازی کی طرح مشتعل ہو کر ہزاروں جانوں کا نقصان کرتے جاتے ہیں۔جہاز غرق ہوتے ہیں۔ریل گاڑیوں کے ذریعہ سے صد ہا جانیں تلف ہوتی ہیں۔طوفان آتے ہیں۔مکانات گرتے ہیں۔سانپ کاٹتے ہیں۔درندے پھاڑتے ہیں۔وبائیں پڑتی ہیں۔اور فنا کرنے کا نہ ایک دروازہ بلکہ ہزارہا دروازے کھلے ہیں جو مجرمین کی پاداش کے لئے خدا کے قانون قدرت نے مقرر کر رکھے ہیں۔پھر کیونکر کہا جائے کہ خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں۔سچ یہی ہے کہ بادشاہت تو ہے۔ہر ایک مجرم کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں پڑی ہیں اور پاؤں میں زنجیر ہیں مگر حکمت الہی نے اس قدر اپنے قانون کو نرم کر دیا ہے کہ وہ ہتکڑیاں اور وہ زنجیریں فی الفور اپنا اثر نہیں دکھاتی ہیں اور آخر اگر انسان باز نہ آوے تو دائمی جہنم تک پہنچاتی ہیں اور اس عذاب میں ڈالتی ہیں جس سے ایک مجرم نہ زندہ رہے اور نہ مرے۔غرض قانون دو ۲ ہیں۔ایک وہ