اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 103

۱۰۳ جل شانہ و عزاسمہ درجہ اطاعت کر رہے ہیں یہی تعریف زمین کے پات پات اور ذرہ ذرہ کی نسبت قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہر ایک چیز اس کی اطاعت کر رہی ہے۔ایک پتہ بھی بجز اس کے امر کے گر نہیں سکتا اور بجز اس کے حکم کے نہ کوئی دو اشفادے سکتی ہے اور نہ کوئی غذا موافق ہو سکتی ہے اور ہر ایک چیز غایت درجہ کے تذلل اور عبودیت سے خدا کے آستانہ پر گری ہوئی ہے اور اس کی فرمانبرداری میں مستغرق ہے۔پہاڑوں اور زمین کا ذرہ ذرہ اور دریاؤں اور سمندروں کا قطرہ قطرہ اور درختوں اور بوٹیوں کا پات پات اور ہر ایک جز اُن کا اور انسان اور حیوانات کے کل ذرات خدا کو پہچانتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی تحمید و تقدیس میں مشغول ہیں اسی واسطے نے فرمایا - يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ " یعنی جیسے آسمان پر ہر یک چیز خدا کی تسبیح و تقدیس کر رہی ہے ویسے زمین پر بھی ہر ایک چیز اس کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے۔پس کیا زمین پر خدا کی تحمید و تقدیس نہیں ہوتی ؟ ایسا کلمہ ایک کامل عارف کے منہ سے نہیں نکل سکتا بلکہ زمین کی چیزوں میں سے کوئی چیز تو شریعت کے احکام کی اطاعت کر رہی ہے اور کوئی چیز قضا و قدر کے احکام کے تابع ہے اور کوئی دونوں کی اطاعت میں کمر بستہ ہے۔کیا بادل ، کیا ہوا، کیا آگ، کیا زمین سب خدا کی اطاعت اور تقدیس میں محو ہیں۔اگر کوئی انسان الہی شریعت کے احکام کا سرکش ہے تو الہی قضا و قدر کے حکم کا تابع ہے۔ان دونوں حکومتوں سے باہر کوئی نہیں۔کسی نہ کسی آسمانی حکومت کا خواہر ایک کی گردن پر ہے۔ہاں البتہ انسانی دلوں کی صلاح اور فساد کے لحاظ سے غفلت اور ذکر الہی نوبت به نوبت زمین پر اپنا غلبہ کرتے ہیں مگر بغیر خدا کی حکمت اور مصلحت کے یہ مدوجزر خود بخود نہیں۔خدا نے چاہا کہ زمین میں ایسا ہو سو ہو گیا۔سو ہدایت اور ضلالت کا دور بھی دن رات کے دور کی طرح خدا کے قانون اور اذن کے موافق چل رہا ہے نہ خود بخودباوجود اس کے ہر ایک چیز اس کی آواز سنتی ہے اور اس کی پا کی یاد کرتی ہے مگر الجمعة :٢