اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 98

۹۸ جل شانہ و عزاسمہ نجات بخشتا ہے۔اُسی روز سے نجات کا مسئلہ بھی سمجھ آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی پتہ لگتا ہے۔اگر چہ جگانے اور متنبہ کرنے کے لئے کبھی کبھی غیروں کو بھی سچی خواب آ سکتی ہے مگر اس طریق کا مرتبہ اور شان اور رنگ اور ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا مکالمہ ہے جو خاص مقربوں سے ہی ہوتا ہے اور جب مقرب انسان دعا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنی خدائی کے جلال کے ساتھ اس پر مجتبی فرماتا ہے اور اپنی رُوح اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی محبت سے بھرے ہوئے لفظوں کے ساتھ اس کو قبول دعا کی بشارت دیتا ہے اور جس کسی سے یہ مکالمہ کثرت سے وقوع میں آتا ہے اُس کو نبی یا محدث کہتے ہیں۔حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۲، ۴۳) یا در ہے کہ بندہ توحسن معاملہ دکھلا کر اپنے صدق سے بھری ہوئی محبت ظاہر کرتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس کے مقابلہ پر حد ہی کر دیتا ہے۔اس کی تیز رفتار کے مقابل پر برق کی طرح اس کی طرف دوڑتا چلا آتا ہے۔اور زمین و آسمان سے اس کے لئے نشان ظاہر کرتا ہے اور اس کے دوستوں کا دوست اور اس کے دشمنوں کا دشمن بن جاتا ہے اور اگر پچاس کروڑ انسان بھی اس کی مخالفت پر کھڑا ہو تو اُن کو ایسا ذلیل اور بے دست و پا کر دیتا ہے جیسا کہ ایک مرا ہوا کیڑا اور محض ایک شخص کی خاطر کے لئے ایک دنیا کو ہلاک کر دیتا ہے اور اپنی زمین و آسمان کو اس کے خادم بنادیتا ہے۔اور اس کی کلام میں برکت ڈال دیتا ہے اور اس کے تمام درو دیوار پر نور کی بارش کرتا ہے اور اس کی پوشاک میں اور اس کی خوراک میں اور اس مٹی میں بھی جس پر اس کا قدم پڑتا ہے ایک برکت رکھ دیتا ہے اور اس کو نامراد ہلاک نہیں کرتا اور ہر ایک اعتراض جو اُس پر ہو اس کا آپ جواب دیتا ہے۔اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اس کے پائوں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے وہ دشمنوں پر حملہ کرتا ہے۔وہ اس کے دشمنوں کے مقابل۔