اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 99

۹۹ جل شانہ و عزاسمہ پر آپ نکلتا ہے۔اور شریروں پر جو اس کو دُکھ دیتے ہیں آپ تلوار کھینچتا ہے ہر میدان میں اوس کو فتح دیتا ہے اور اپنی قضاء وقدر کے پوشیدہ راز اوس کو بتلاتا ہے۔غرض پہلا خریداراس کے روحانی حسن و جمال کا جوحسن معاملہ اور محبت ذاتیہ کے بعد پیدا ہوتا ہے خدا ہی ہے۔پس کیا ہی بدقسمت وہ لوگ ہیں جو ایسا زمانہ پاویں اور ایسا سورج ان پر طلوع کرے اور وہ تاریکی میں بیٹھے رہیں۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۲۵) روحانی قالب کے کامل ہونے کے بعد محبت ذاتیہ الہیہ کا شعلہ انسان کے دل پر ایک رُوح کی طرح پڑتا ہے اور دائمی حضور کی حالت اس کو بخش دیتا ہے کمال کو پہنچتا ہے اور تبھی روحانی حسن اپنا پورا جلوہ دکھاتا ہے لیکن یہ حسن جو روحانی حسن ہے جس کو حسن معاملہ کے ساتھ موسوم کر سکتے ہیں یہ وہ حسن ہے جو اپنی قوی کششوں کے ساتھ حسنِ بشرہ سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ حسن بشرہ صرف ایک یا دو شخص کے فانی عشق کا موجب ہو گا جو جلد زوال پذیر ہو جائے گا اور اس کی کشش نہایت کمزور ہو گی لیکن وہ روحانی حسن جس کو حسن معاملہ سے موسوم کیا گیا ہے وہ اپنی کششوں میں ایسا سخت اور زبردست ہے کہ ایک دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ اس کی طرف کھنچا جاتا ہے اور قبولیت دُعا کی بھی درحقیقت فلاسفی یہی ہے کہ جب ایسا روحانی حسن والا انسان جس میں محبت الہیہ کی رُوح داخل ہو جاتی ہے جب کسی غیر ممکن اور نہایت مشکل امر کے لئے دعا کرتا ہے اور اس دعا پر پورا پور از ور دیتا ہے تو چونکہ وہ اپنی ذات میں حسن روحانی رکھتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے امر اور اذن سے اس عالم کا ذرہ ذرہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔پس ایسے اسباب جمع ہو جاتے ہیں جو اس کی کامیابی کے لئے کافی ہوں۔تجربہ اور خدا تعالیٰ کی پاک کتاب سے ثابت ہے کہ دنیا کے ہر ایک ذرہ کو طبعاً ایسے شخص کے ساتھ ایک عشق ہوتا ہے اور اس کی دُعائیں ان تمام ذرات کو ایسا اپنی طرف کھینچتی ہیں جیسا کہ آہن ربالو ہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔پس غیر معمولی باتیں جن کا ذکر کسی علم طبعی اور فلسفہ میں نہیں اس کشش کی باعث ظاہر ہو