اللہ تعالیٰ — Page 97
۹۷ جل شانہ و عزاسمہ کہ لوگ اس سے محبت کریں اس کی اطاعت کریں اور اس کی مرضی کے موافق رفتار اور گفتار بناویں۔(نیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۸۶،۳۸۵) قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكُهَا کوئی اُس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے یہ تو ہر ایک قوم کا دعویٰ ہے کہ بہتیرے ہم میں ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں مگر ثبوت طلب یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اُن سے محبت رکھتا ہے یا نہیں۔اور خدا تعالیٰ کی محبت یہ ہے کہ پہلے تو اُن کے دلوں پر سے پردہ اٹھاوے جس پردہ کی وجہ سے اچھی طرح انسان خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں رکھتا اور ایک دھندلی سی اور تاریک معرفت کے ساتھ اس کے وجود کا قائل ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات امتحان کے وقت اس کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتا ہے۔اور یہ پردہ اٹھایا جانا بجز مکالمہ الہیہ کے اور کسی صورت سے میسر نہیں آ سکتا پس انسان حقیقی معرفت کے چشمہ میں اس دن غوطہ مارتا ہے جس دن خدا تعالیٰ اس کو مخاطب کر کے آنا الموجود کی اس کو آپ بشارت دیتا ہے۔تب انسان کی معرفت صرف اپنے قیاسی ڈھکوسلے یا محض منقولی خیالات تک محدود نہیں رہتی بلکہ خدا تعالیٰ سے ایسا قریب ہو جاتا ہے کہ گویا اس کو دیکھتا ہے اور یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ خدا تعالیٰ پر کامل ایمان اُسی دن انسان کو نصیب ہوتا ہے کہ جب اللہ جلشانہ اپنے وجود سے آپ خبر دیتا ہے۔اور پھر دوسری علامت خدا تعالیٰ کی محبت کی یہ ہے کہ اپنے پیارے بندوں کو صرف اپنے وجود کی خبر ہی نہیں دیتا بلکہ اپنی رحمت اور فضل کے آثار بھی خاص طور پر اُن پر ظاہر کرتا ہے اور وہ اس طرح پر کہ اُن کی دعائیں جو ظاہری امیدوں سے زیادہ ہوں قبول فرما کر اپنے الہام اور کلام کے ذریعہ سے اُن کو اطلاع دے دیتا ہے۔تب اُن کے دل تسلی پکڑ جاتے ہیں کہ یہ ہمارا قادر خدا ہے جو ہماری دعائیں سنتا اور ہم کو اطلاع دیتا اور مشکلات سے ہمیں الشمس