اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 42
بار بار دھرانا اور تواتر سے دہرانا، اسی خدا تعالیٰ کی تصویر بنتی ہے اور اس تصویر کی وجہ سے محبت پیدا ہوتی ہے " کے صفات الہیہ کے ذکر کی ضرورت او بر اس کے فلسفہ پر روشنی ڈالنے کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید نے اللہ تعالے کی صفات کے لئے الاسماء الحسنى" کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے۔چنانچہ سورہ حشر میں فرمایا لَهُ الأَسماء الحسنى (الحشر: ۲۵) یعنی خدا ہی کے سب اچھے نام ہیں۔قرآن کے تین لفظوں سے مذا ہر عالم کا مقابلہ حضرت مولانا نورالدین خلیفہ مسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ :- بعض وقت میں نے قرآن کے تین تین لفظوں کو علمیہ چھانٹ کہ دیکھا کہ انہیں تین الفاظ سے میں دنیا کے تمام مذاہب کا مقابلہ کر سکتا ہوں کا ہے میں سمجھتا ہوں کہ " لَهُ الاَسماء الحسنیٰ کے تین معرکة الآراء الفاظ کو بھی یقینا یہ خصوصیت حاصل ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے ، اپریل شاہ • کو سورہ حشر کی اسی آیت کا درس دیتے ہوئے فرمایا :- یہ ایک ایسی آیت ہے جس سے مقابلہ میں دنیا کا کوئی مذہب اپنی ۱۱۲۰ ۱۱۰ تعلیم العقائد والاعمال پر خطبات“ ص ۱۳ : ه : - اختیار "بدر" قادیان - ۲ مارچ ا حت کالم ۲ در تاریخ احمدیت جلد هم منه : -: