اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 38 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 38

صفات الہیہ کے تکرار کی اہمیت ذکر اللہ کی یہ آسمانی تاثیرات و عجائبات صفات الہیہ کے کثرت تکرار اور زبان سے دہرانے اور قلب میں نقش کرنے کے سوا ہر گز پیدا ہی نہیں ہو سکتے کیونکہ کسی وجود سے عشق و محبت یا حسن سے پیدا ہوتا ہے یا احسان سے اور یہ دونوں امویہ صفایت اللہ کے دردہی سے حاصل ہو سکتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کے حسن و احسان کا صحیح تصور نہ ہو تو اسکی ذاتی تعلق کیسے ہو سکتا ہے ؟ حاجی الحرمین الشریفین حضرت حافظ مولانا نور الدین بھیری خلیفہ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ اُن کے ایک استاد نے جو بھوپال میں رہا کرتے تھے ، ایک دفعہ ردیاء میں دیکھا کہ بھوپال سے باہر ایک ملی ہے وہاں ایک مجذوم یعنی کو بھی پڑا ہوا ہے جو آنکھوں سے اندھا ہے ، ناک اُس کا کٹا ہوا ہے۔انگلیاں جھڑ چکی ہیں اور تمام جسم میں پیپ پڑی ہوئی ہے اور لکھیاں اس پر بھنبھنا رہی ہیں۔فرمایا۔مجھے یہ دیکھ کر سخت کراہت آئی اور میں نے پوچھا بابا تو کون ہے ، وہ کہنے لگا۔میں اللہ میاں ہوں۔مجھ پر سخت دہشت طاری ہوئی اور میں نے کہا تم اللہ میاں ہو ؟ آج تک تو سارے انبیاء یہی کہتے چلے آئے کہ اللہ سب سے زیادہ خوبصورت ہے اور اسکی بڑھ کر اور کوئی حسین نہیں ہم جو اللہ تعالیٰ سے عشق اور محبت کر تے ہیں تو کیا اسی شکل پر ؟ اس نے کہا انبیا جو کچھ کہتے آئے ہیں وہ بالکل ٹھیک اور