اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 37
صفات باری کا اسلامی تصویر ذات باری کا ذکر کرنے کے بعد اب میں صفات باری کی طرف آتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا بکثرت دہرانا اسلامی تصوف کی روح اور جان ہے اور میں طرح خلائی جہاز میں سیرافلاک کرنے والا ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے لباس اور خوراک سے بے نیاز ہو کہ زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح جب بندہ مومن خالق کائنات کی طرف آسمانی سفر اختیار کرتا ہے تو اس کا ذکر الہی کئے بغیر ایک لمحہ بھی عبسر کہ نا روحانی مدت کو دعوت دینا ہے۔خود اس کو بھی یقین ہوتا ہے کہ اگر طرفتہ العین کے لئے بھی یاد الہی سے غافل رہا تو میری ہلاکت یقینی ہے حضرت مصلح موعود نے ایک دفعہ ذکر الہی کی نہایت لطیف مثال سوچ اون (SWITCH ON ) کرنے سے دی اور فرمایا کہ اگر بجلی کا مین دبا دیا جائے تو روشنی پیدا ہو جاتی ہے ورنہ اندھیرا ہی رہتا ہے لیے حضرت اقدس بانی جماعت احمدیہ علی الف الف برکت کا عینی مشاہدہ و تجربہ ہے کہ عشق اور محبت کے ہوش میں ہو یاد الہی کی جاتی ہے اسی مومن کی روحانی قوتیں ترقی کرتی ہیں۔آنکھ میں قوت کشف نہایت صاف اور لطیف طور پر پیدا ہو جاتی ہے۔تکان ندا کے کلام کو سنتے ہیں اور زبان پر وہ کلام نہایت لذیذ اور اعلیٰ اور اصفی طور پر جاری ہو جاتا ہے اور رویائے صادقہ بکثرت ہوتے ہیں۔جو فلق کی طرح ظہور میں آجاتے ہیں کیے له الفضل ، جولائی شاره ت به بینیم با این مدیر حه نیم نفت طبع اول - د روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۱۲-۲۱۵)